بھارتی لنگور بہاولپور کے چڑیا گھر میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے شہر بہاولپور میں ایک بھارتی لنگور پکڑا گیا جسے چڑیا گھر میں بند کردیا گیا ہے۔ بھارت میں جانوروں کے دیکھ بھال کے لیے کام کرنے والی چند ایک غیر سرکاری تنظیموں نے لنگور کی رہائی اور بھارت واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

بہاولپور کے چڑیا گھر کے حکام کے مطابق پاکستان میں نایاب نسل کا یہ لنگور گذشتہ ہفتے کسی طرح سرحد پار کرکے چولستان کے علاقے میں پہنچ گیا جہاں مقامی لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن لنگور انہیں غچہ دیتا رہا اور قابو میں نہ آیا۔مقامی لوگوں نے ورلڈ وائیڈلائف کے عملے کو بلایا لیا جنہوں نے ا پنی مہارت استعمال کرتے ہوئے اس مبینہ بھارتی لنگور کو پکڑ لیا اور اسے بہاولپور چڑیا گھر کے حوالے کردیا۔

چڑیا گھر کے ملازم محمد اقبال کے مطابق اس لنگور کو پہلے سے موجود ایک بندر راجو کے برابر والے پنجرے میں بند کیا گیا ہے اور روزانہ تازہ پھلوں سے اس کی تواضع کی جاتی ہے۔

بہاولپور چڑیا گھر کے ملازمین نے اس لنگور کا نام بوبی رکھ دیا ہے اور وہ بھی اس کی حرکتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اس لنگور کے پکڑے جانے کی خبر بہاولپور کے مقامی اخبارات میں اس کی تصویر سمیت شائع ہوئی جس کے بعد سے اس پنجرے کے گرد لوگوں کا رش رہنے لگا ہے اور مقامی لوگ اپنے بچوں اور دیگر اہلخانہ کے ہمراہ اسے دیکھنے آتے ہیں۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق بہاولپور ڈویژن میں پاک بھارت طویل سرحد موجود ہے جو تمام کی تمام خاردار تاروں والی باڑ سے بند کی گئی ہے۔

اس باڑ کے باوجود بھارت سے نیل گائے ہرن سمیت جانور سرحد پار کرکے پاکستان پہنچ جاتے ہیں اور عموما شکاریوں کا ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارت کے اس سرحدی علاقے میں میں نیل گائے اور ہرن کا گوشت نہیں کھایا جاتا جس کی وجہ سے بھارت میں ان جانوروں کی بہتات ہے اور مقامی کسان اپنی فصلیں بچانے کے لیے باڈر سیکیورٹی فورس کے تعاون سے ان جانوروں کو پاکستان کی جانب دھکیل دیتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لنگور بھی ملک بدر کیے جانے والے ایسے ہی ریوڑ میں شامل ہوکر پاکستان پہنچا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بھارت میں کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے اس لنگور کی رہائی کا مطالبہ کیا ان کا کہنا ہے کہ ایک آزاد لنگور کو پنجرے میں قید کرنا کوئی اچھا اقدام نہیں ہے۔اس لیے اسے رہا کرکے اس کے آبائی علاقے میں واپس بھیجا جائے۔