اعجاز نے لکھا، حقانی کا تعلق نہیں: جیمز جونز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ کی قومی سلامتی کے سابق مشیر جنرل جیمز لوگن جونز کا کہنا ہے کہ متنازع میمو منصور اعجاز نے خود لکھا تھا اور پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا اس متازع میمو کی تخلیق میں کوئی کردار نہیں ہے۔

یہ بات انہوں نے اپنے اس بیان حلفی میں کہی ہے جو سابق سفیر حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر کی درخواست پر بھجوایا گیا ہے تاکہ یہ بیان حلفی سپریم کورٹ کے اس بنچ کے روبرو پیش کیا جاسکے جو متنازع میمو کے معاملے پر سماعت کررہا ہے۔

بیان حلفی میں جیمز لوگن جونز نے کہا کہ ان کے پاس اس بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ میمو کی تخلیق میں حسین حقانی کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی سابق سفیر کو اس متنازع میمو کے بارے میں پہلے سے کوئی علم تھا۔

سابق امریکی مشیر کے بقول متنازع میمو منصور اعجاز نے خود ہی لکھا ہے۔

جیمز جونز نے اپنے بیان حلفیہ میں کہا کہ نو مئی سنہ دو ہزار گیارہ سے چند دن پہلے ان کو منصور اعجاز کی فون کال موصول ہوئی جنہیں وہ دو ہزار چھ سے ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ جنرل جیمز جونز کے بقول فون کال کے دوران منصور اعجاز نے انہیں بتایا کہ ان کے پاس حکومت پاکستان کے ایک اعلیٰ ترین اتھارٹی کا ایک پیغام ہے جو وہ امریکی فوج کے سابق سربراہ مائیک مولن تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

امریکی مشیر کے مطابق فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران کسی موقع پر بھی سابق سفیر حسین حقانی کا تذکرہ نہیں ہوا اور نہ ہی اس گفتگو سے یہ ظاہر ہوا کہ منصور اعجاز یہ سب کچھ حسین حقانی کے ایماء پر کررہے ہیں۔

جیمز جونز کا کہنا ہے کہ انہوں نے منصور اعجاز کو باور کرایا کہ وہ کسی ایسے پیغام کو زبانی طور پر مائیک مولن تک نہیں پہنچائیں گے اور اگر وہ یہ پیغام آگے پہنچانا چاہتے ہیں تو وہ اسے تحریری شکل میں دیں۔

بیان حلفی میں بتایا کہاگیا کہ گیارہ مئی سنہ دو ہزار گیارہ کو جیمز جونز کو منصور اعجاز کی طرف سے ان کی ذاتی ای میل اکاونٹ پر ایک ای میل موصول ہوئی جو متنازع میمو پر مشتمل تھی۔ سابق امریکی مشیر کے مطابق فون پر ہونے والی گفتگو اور ای میل پر بھیجی گئی ای میل کا مواد لگ بھگ ایک ہی نوعیت کا تھا۔

جنرل جیمز جونز کا کہنا ہے کہ ان کا یہ خیال ہے کہ متنازع میمو منصور اعجاز نے لکھا ہے کیونکہ اس کی تحریری ان کی ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو سے ملتی جلتی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے یہ بات انتہائی غیر معمولی تھی کہ پاکستانی حکومت کی اعلی ترین اتھارٹی نے یہ پیغام ایک جزوقتی صحافی اور ایک پرائیویٹ شہری کے ذریعے بھجوایا۔

سابق امریکی مشیر جیمز جونز کے بقول ان کی ذاتی رائے میں متنازع میمو قابل بھروسہ نہیں ہے۔

جیمز جونز کے بقول سابق امریکی مشیر نے بیان حلفی میں بتایا کہ انہوں نے منصور اعجاز کی طرف سے ای میل کے ذریعے ملنے والے متنارعہ میمو کو دس مئی سنہ دو ہزار گیارہ کو مائیک مولن کو بجھوادیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے میمو کو مائیک مولن کو بھجوادیا تاکہ وہ اس متنازع میمو کے قابل اعتبار ہونے کا تعین کرسکیں اور یہ فیصلہ کرسکیں کہ اس پر کیا کارروائی ہونی چاہیے۔

ان کے خیال میں مائیک مولن کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس میمو کو قابل بھروسہ نہیں سمجھتے ہیں اور انہوں نے میمو پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

امکان ہے کہ حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر سنیچر کے روز سپریم کورٹ میں یہ بیان حلفی داخل کرائیں گی۔