متنازع میمو مقدمہ، صدر کا جواب نہیں آیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سپریم کورٹ میں متنازع میمو کے مقدمے میں بری فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان نے اپنے جوابات داخل کردیے ہیں تاہم صدرِ پاکستان نے کی جانب سے جواب داخل نہیں کرایا گیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق آرمی چیف جنرل کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل پاشا سمیت منصور اعجاز اور وفاق نے جمعرات کو سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت اپنے جوابات داخل کرائے۔

نامہ نگار کے مطابق صدر کی جانب سے جواب داخل نہ کرانے کے بعد انیس دسمبر کو اس کیس کی سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل عدالت میں یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں چونکہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے اور ان کو فریق نہیں بنایا جا سکتا ہے لہذٰا وفاق کا جواب ہی صدر کا جواب سمجھا جائے۔

دریں اثناء وزیراعظم گیلانی اور پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے مابین ملاقات ہوئی ہے جس میں وزیراعظم گیلانی نے میمو تنازع پر تصادم کے حوالے سے افواہوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس رائے کو مسترد کر دیا۔

یاد رہے کہ دو مئی کو ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد حسین حقانی سے منسوب امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کو لکھے گئے متنازع میمو میں پاکستانی افواج کو جمہوری حکومت کے خلاف ممکنہ کارروائی سے روکنے کے لیے مدد طلب کی گئی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف کی طرف سے متنازع میمو کے خلاف دائر کی جانے والی اس درخواست پر سپریم کورٹ نے یکم دسمبر کو صدر آصف علی زرداری، وفاق، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا، حسین حقانی اور پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کو نوٹس جاری کیے تھے۔

ان افراد کو دو ہفتوں میں اپنے جواب داخل کروانے کے بارے میں کہا گیا تھا۔

تصادم کی رائے سختی سے مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران وزیراعظم گیلانی نے میمو تنازع پر تصادم کے حوالے سے افواہوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس رائے کو مسترد کر دیا۔

بیان کے مطابق جنرل کیانی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی جس میں ملک کو درپش چیلنجز کے خاتمے کے لیے قومی اتحاد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ’حکومت پاکستان اور اس کے ادارے اپنے آئینی کردار، جمہوری ذمہ داریوں اور پاکستان کے خوشحال مستقبل کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم ہیں۔‘

وزیراعظم نے مزید کہا کہ میمو ایشو پر معزز عدالت کی حدود کے حوالے سے حکومتی موقف کو اب بھی عدالت سنے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں متنازعہ میمو کے بارے میں حکومت اور فوجی قیادت کے متضاد موقف کے بعد حکومت اور حزبِ مخالف کے بعض سیاستدان کہتے ہیں کہ یہ جمہوری نظام کے لیے بظاہر خطرے کی گھنٹی ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم اور فوجی سربراہ جنرل کیانی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ فوج کے سربراہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے معزز عدالت کے نوٹس پر جوابات ایک طے شدہ طریقہ کار کے تحت قواعد و ضوابط کے مطابق جمع کرائے گئے ہیں اور اس کو فوج اور حکومت کے مابین تعطل کے غلط معنی نہ پہنائے جائیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں متنازع میمو کے مقدمے میں بری فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان نے اپنے جوابات داخل کردیے ہیں تاہم صدرِ پاکستان نے کی جانب سے ہنوز جواب داخل نہیں کیا گیا۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی متنازع میمو کے معاملے کی تحقیقات جاری رکھے تاکہ پارلیمنٹ جسے آئین کے تحت بالادستی حاصل ہے، وہی اس معاملے میں اگر ضرورت ہو تو مناسب کارروائی کرے۔

’صدر زرداری نے جواب داخل نہیں کرایا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی متنازع میمو کے معاملے کی تحقیقات جاری رکھے تاکہ پارلیمینٹ جسے آئین کے تحت بالادستی حاصل ہے، وہی اس معاملے میں اگر ضرورت ہو تو مناسب کارروائی کرے۔

متنازع میمو کے متعلق درخواستوں پر اپنے جواب میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے ان درخواستوں کو مسترد کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔

اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق کے سپریم کورٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تھا اُن کے علم میں نہیں ہے کہ صدر آصف علی زرداری اس متنازع میمو سے متعلق اپنا جواب کب داخل کروائیں گے۔

وفاق کی جانب سے جواب اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کی وساطت سے سپریم کورٹ میں جمع کروایا گیا ہے۔ اس جواب میں کہا گیا ہے کہ اس پارلیانی کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے اور یہ کمیٹی اس معاملے کی چھان بین کررہی ہے۔

اس جواب میں مذید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اس ضمن میں تمام متعقلہ اداروں کو ہدایات جاری کرچکی ہے کہ اس متنازع میمو کی چھان بین کے سلسلے میں پارلیمانی کمیٹی کو تمام ممکنہ سہولیات باہم پہنچائی جائیں۔

جواب میں مذید کہا گیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی نہ صرف ثبوت اکھٹے کرنے کے بارے میں با اختیار ہے بلکہ اس ضمن میں اس کمیٹی کو سول عدالت کے برابر اختیارات بھی حاصل ہیں۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ میمو کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد ملک کی انتظامیہ اور پارلیمان کی جانب سے مناسب اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔

وفاق کا موقف ہے کہ وزیر اعظم جو ملک کے چیف ایگزیکٹو بھی ہیں، اُنہوں نے اس معاملے پر امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حیسن حقانی سے استعفیٰ لے لیا اور اس معاملے کو قومی سلامتی سے متعلق پارلیمان کی دفاعی کمیٹی کے سپرد بھی کردیا ہے۔

وفاق کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں میمو سے متعلق معاملے پرآئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی کے تحت کارروائی نہیں ہوسکتی اور عدالت ضمن میں دائر ہونے والی درخواستوں کو مسترد کردے۔

’میمو کی تصدیق ہو گئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ 1

بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے متنازع میمو سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ اس میمو میں پاکستانی فوج کے مورال کو گرانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے جوان، افسران اور سپاہی ملک کی خود مختاری، سرحدوں کی حفاظت اور سیاسی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اس لیے اس متنازع میمو کی چھان بین ہونی چاہیے۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے اٹارنی جنرل آف پاکستان کی وساطت سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ اس میمو سے متعلق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز سے جو ملاقات ہوئی تھی اور اس ملاقات میں جو ثبوت فراہم کیے گئے تھے وہ اس میمو کی حقیقت جاننے کے لیے کافی ہیں۔

بری فوج کے سربراہ کا بیان اس ادارے کی لیگل برانچ کے انچارج جج ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے اٹارنی جنرل دفتر کو بھجوایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ دو مئی کو ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی جانب سے مبینہ طور پر امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کو خط لکھا گیا تھا جس میں پاکستانی افواج کو جمہوری حکومت کے خلاف ممکنہ کارروائی سے روکنے کے لیے امریکی افواج کی مدد طلب کی گئی تھی۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کے سربراہ مائیک مولن نے اُنہیں ملنے والے میمو کی پہلے تردید کی تھی۔ بعد ازاں اکیس نومبر کو قومی سلامتی کے سابق مشیر جنرل جیمز جانز نے اس بات کی تصدیق کی کہ اُنہوں نے منصور اعجاز کی طرف سے بھیجے گئے میمو کو مائیک مولن تک پہنچایا تھا۔

بری فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس متنازع میمو میں لکھی گئی حساس نوعیت کی معلومات منظر عام پر آنے کے بعد اُنہوں نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو مشورہ دیا کہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کو فوری طور پر پاکستان بُلایا جائے تاکہ وہ ملک کی قیادت کو اس معاملے پر بریف کرسکیں۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ بائیس نومبر کو وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں صدر آصف علی زرداری، ڈی جی آئی ایس آئی اور احمد شجاع پاشا کی موجودگی میں حیسن حقانی نے میمو سے متعلق بریفنگ دی جس کے بعد وزیر اعظم نے حسین حقانی کو مستفی ہونے کا حکم دیا اور اس معاملے کی چھان بین کرانے کا فیصلہ کیا۔

’بلیک بیری کی جانچ کرائی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل شجاع پاشا نے متنازع میمو سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں کہا ہے کہ اس معاملے کی حقیقت کو جانچنے کے لیے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی اور اس میمو کے اہم کردار پاکستانی نژاد منصور اعجاز کے زیر استعمال موبائل فون اور بلیک بیری کی فارنسِک لیبارٹری سے جانچ پڑتال کروائی جائے۔

اپنے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ ان دونوں افراد کے موبائل فون اور بلیک بیری کا مئی سنہ دوہزار گیارہ سے لیکر اب تک کے ریکارڈ کو نکلوایا جائے اور اُس کی جانچ پڑتال کروائی جائے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے اپنے جواب میں سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ منصور اعجاز کو عدالت میں طلب کیا جائے کیونکہ اس میمو سے متعلق اُن کے پاس شواہد موجود ہیں اور میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ اُنہوں نے عدالت میں پیش ہونے کے لیے رضا مندی بھی ظاہر کی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں بتایا گیا ہے کہ منصور اعجاز اس میمو سے متعلق آئی ایس آئی کے سربراہ سے معلومات کا تبادلہ کرنے کو تیار ہیں لیکن یہ ملاقات پاکستان اور امریکہ میں نہیں بلکہ کسی تیسرے ملک ہوگی۔

احمد شجاع پاشا کا کہنا تھا کہ اسی تناظر میں اُنہوں نے بائیس اکتوبر سنہ دو ہزار گیارہ کو لندن کے ایک ہوٹل میں منصور اعجاز سے ملاقات کی تھی۔

اس جواب میں اُنہوں نے کہا کہ ملاقات میں منصور اعجاز نے بتایا کہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی اُن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور وہ اس میمو کے مندرجات اور اسے امریکی حکام تک پہنچانے کے سلسلے میں مسلسل رابطے میں رہے۔ ملاقات میں اُنہوں نے اس میمو کے بارے میں شواہد بھی پیش کیے۔

احمد شجاع پاشا کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو منصور اعجاز سےملاقات کے بارے میں چوبیس اکتوبر کو آگاہ کردیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ اٹھارہ نومبر کو اُنہوں نے صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی جو فوج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں، جس میں اُنہوں نے کہا کہ چونکہ یہ ملکی سلامتی سے متعلق اہم معاملہ ہے اس لیے میمو معاملے کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

اسی بارے میں