’معاملہ اتنا اہم نہیں کہ تماشا بنتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption متنازع میمو کے بارے میں حکومت اور فوج کے درمیان تضاد پایا جاتا ہے

پاکستانی سیاست میں بحران پیدا کردینے والے متنازع میمو کے معاملے پر پاکستان کی فوج کے کچھ سابق سینیئر افسران کا کہنا ہے کہ یہ فوج کے خلاف امریکی سازش ہے جبکہ آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ کے خیال میں یہ معاملہ اتنا اہم تھا ہی نہیں کہ میڈیا سمیت دوسرے ریاستی ادارے اس کا ’تماشا‘ بناتے ۔

پاکستانی فوج کے کچھ سینیئر ریٹائرڈ افسران کے مطابق متنازع میمو پاکستانی فوج کی ساکھ اور اس کی اہم سٹرٹیجیک پالیسی کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل اسد درانی نے کہا ’مجھے میمو کے معاملے میں اتنی صداقت نہیں لگتی اس لیے پاکستان کے ریاستی اداروں ،میڈیا اور بعض سیول سوسائٹی کے اراکین کواس پر اتنا تماشا کرنا زیب نہیں دیتا‘۔

ریٹائرڈ جنرل اسد درانی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میمو کے معاملے کا ادراک ہونے پر آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کا بذات خود منصور اعجاز سے ملنا بھی ٹھیک قدم نہیں تھا کیونکہ اگر آئی ایس آئی نے میمو کا پتہ چلانا تھا تو اس کے پاس اور بہت سے طریقے ہیں یا کوئی اور جونیئر اہلکار جا کر اس پر بات چیت کرسکتا تھا۔‘

Image caption اسد درانی کہتے ہیں کہ اس معاملے کا تماشا نہیں بنایا جانا چاہیے تھا

انہوں نے مزید کہا کہ اگر میمو لکھا بھی گیا ہے تو اس سے متعلق ہونے والی تحقیقات کے نتایج کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ریٹارٹر بریگیڈر محمد سعد نے سابق سفیر حسین حقانی کے کردار کو متنازع قرار دیا اور میمو کے معاملے کو پاکستان کی حکومت اور فوج کا اندونی خوف اورغلط سفارتی اقدام کہا۔

ریٹائیرڈ بریگیڈیئر محمد سعد نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ’ آج اگر پاکستان کی فوج اقتدار میں آتی ہے تو حسین حقانی وہ پہلے شحص ہوں گے جو فوج کی حکومت کو قبول کریں گے۔‘

لیکن آئی ایس آئی کے ہی سابق سربراہ حمید گل کا کہنا ہے کہ میمو کا معاملہ بہت اہم ہے اور اس کو حکومت ٹال مٹول کر کے دبا نہیں سکتی۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ میری ذاتی رائے کے مطابق یہ میمو صدر زرداری کی ہدایت کے بغیر نہیں لکھا گیا اور اس میں امریکی حکومت سے جو وعدے کیے گے ہیں وہ بھی صرف صدر ہی پورے کر سکتے ہیں کیونکہ وہ امریکہ کی مدد سے ہی آج صدر ہیں ۔

ریٹائرڈ بریگیڈیئر شوکت قادر بھی متنازع میمو سے متعلق حمید گل کی رائے سے متفق ہیں۔ ان کے مطابق یہ پاکستانی فوج کے خلاف ایک امریکی چال ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں کہا ’امریکی شہری منصور اعجاز نے امریکی حکومت کے دباؤ میں آکر یہ سب کچھ کیا ہے اور امریکہ کے مفاد میں اس وقت پاکستانی فوج کو تنگ کرنا ہے اور وہی اس نے کیا لیکن یہ سازش فوج کو نقصان پہنچانے کی بجاے اس کے مفاد میں چلی گی ہے ۔‘

اسی سلسلے میں جب ریٹائرڈ جنرل قادر بلوچ سے بات کی گئی تو انہوں نے ماضی میں فوج کی اقتدار حاصل کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میمو کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی گی ہے کہ پاکستانی فوج نے حکومت پاکستان کو دبا کر رکھا ہوا ہے اس لیے بیرونی مداخلت ہونی چاہیے تاکہ امریکہ کو اپنے مفادات پورے کرنے میں آسانی ہو۔‘

پاکستان فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈر محمود شاہ نے یہ تو تسلیم کیا ہے کہ فوج سیاسی قیادت کے ماتحت ہونی چاہتے لیکن انہوں نے متنازع میمو سے متعلق بات کرتے کہا ’یہ ان چند افراد کی کوششں ہے جن کا موقف ہے کہ فوج سیاسی قیادت کے نیچے ہونی چاہیے یہ ایک اصولی بات ہے لیکن اس کے لیے غلط طریقہ استعمال کرنا صحیح نہیں ہے۔‘

سنیرسابق فوجی افسران نے تو کہا دیا کہ یہ امریکی سازش ہے تاہم پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایک سخت موقف اپنایا اور اس متنازع میمو کو پارلیمینٹ کے خلاف سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ متنازع شخصیت کے مالک منضور اعجاز کے بیان کو اتنی اہمیت دیتے ہوئے تحقیقاتی کارروائی کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پارلیمینٹ پر حملہ کیا جا رہا ہے۔