دو اور نوجوان طالبان کی قید سے فرار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے اغوا ہونے والے دو اور نوجوان طالبان کی قید سے فرار ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

لڑکوں کی داڑھیاں اور بال بڑھے ہوئے تھے اور ان کے بقول انھیں اسلام اور جہاد کے درس دیے جاتے تھے۔

اعتبار جان اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ چاند گرہن کے وقت طالبان کی قید سے فرار ہو کر اپنے گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔

اعتبار جان نے بی بی سی کو بتایا کہ کبھی کبھی انھیں اسلام اور جہاد کا درس دیا جاتا تھا اور انھیں داڑھی رکھنے اور سر کے بال لمبے کرنے کی ہدایات بھی کی جاتی تھی۔

پاک افغان سرحد کے قریب واقع باجوڑ ایجنسی کے دو درجن سے زیادہ نوجوانوں کو عید الفطر کے دن مشتبہ طالبان نے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ سرحد کے قریب پکنک منا رہے تھے۔ اس کے بعد پاکستان حکومت نے افغان حکومت سے نوجوانوں کی بازیابی کے لیے کہا لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔

طالبان نے نوجوانوں کی بازیابی کے لیے اپنے ساتھیوں کی رہائی اور مقامی لوگوں کو پولیس یا فوج سے مستعفی ہونے کے مطالبے کیے تھے۔

یاد رہے تحریک طالبان کے نائب امیر مولوی فقیر نے کچھ عرصہ پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مغوی نوجوان خیریت سے ہیں اور وہ مجاہدین کے ماحول میں خوش ہیں ۔

اعتبار جان نے بتایا کہ طالبان نے مغوی نوجوانوں کو دو دو تین تین کے گروہوں میں علیحدہ علیحدہ رکھا ہے، اور سارا دن انھیں کمروں میں بند رکھا جاتا ہے۔ صرف شام کے وقت تھوڑی دیر کے لیے باہر نکالتے ہیں۔

ان سے جب پوچھا کہ کیا انھیں کوئی عسکری تربیت دی جاتی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ طالبان کبھی کبھی ان سے اسلام اور جہاد کی باتیں کرتے تھے لیکن وہ (مغوی نوجوان) اتنے پریشان ہوتے تھے کہ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ جس رات چاند گرہن تھا، ان کی جیل پر مامور طالب پہلے سو رہا تھا اور پھر چاند گرہن دیکھ کر خوفزدہ ہوکر نماز پڑھنے لگا۔ جس کا انھوں نے فائدھ اٹھایا اور وہاں سے فرار ہوگئے۔ ساری رات وہ چلتے رہے اور پھر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے جب صبح ہوئی تو پھر چلنے لگے اور وہ اپنے گھر پہنچ گئے۔

انھوں نے کہا کہ چلتے چلتے ان کے پاؤں زخمی ہو گئے تھے اور وہ تھک چکے تھے لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔

باجوڑ ایجنسی کے ایک قبائلی رہنما ملک تاج نے بتایا کہ اب تک چھ نوجوان طالبان کی قید سے فرار ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں جبکہ دو نوجوانوں کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ فرار ہو کر افغانستان کے ہی کسی علاقے میں چلے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی سطح پر مقامی رہنما نوجوانوں کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں لیکن جب تک افغان حکومت کوئی کوشش نہیں کرے گی تب تک ان کی بازیابی مشکل نظر آتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جن نوجوانوں کو اغوا کیا گیا ہے وہ غریب ہیں، وہ نہ تاوان دے سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی اثرو رسوخ استعمال کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں