صدر زرداری دبئی سے کراچی پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زرداری کچھ دن کراچی میں آرام کریں گے

پاکستان کے صدر اور حکمران پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری دبئی سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

وہ دبئی سے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے مسرور بیس پہنچے، جہاں سے انہیں ان کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس پہنچایا گیا، صدر زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

سندھ کی صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ مری کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد صدر زرداری وطن واپس آئے ہیں، ان کے مطابق صدر کی خیریت سے واپسی کے بعد قیاس آرائیاں کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔

صدر آصف علی زرداری اچانک طبیعت کی خرابی کے بعد چھ دسمبر کو دبئی روانہ ہوگئے تھے، جس کے بعد پاکستان کئی روز تک قیاس آرائیوں اور افواہوں کی لپیٹ میں رہا تھا۔

صدر زرداری کی روانگی ایسے وقت ہوئی تھی جب سپریم کورٹ میں متنازع میمو گیٹ کی سماعت جاری تھی۔

پیر کی صبح وہ پاکستان پہنچے اور سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت بھی اسی دن ہورہی ہے جس میں آرمی چیف جنرل کیانی، آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا، میمو گیٹ کے مرکزی کردار منصور اعجاز اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی اپنے جواب دائر کرچکے ہیں جبکہ صدر زرداری سے بھی جواب طلب کیا گیا تھا جو ابھی تک دائر نہیں کیا گیا۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے دو روز قبل آرمی چیف جنرل کیانی سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد وزیر اعظم نے صحافیوں کے ایک گروپ کو بتایا تھا کہ ان کی ملاقات کے دوران صدر زرداری اور جنرل کیانی کا ٹیلیفون پر بھی رابطہ ہوا تھا۔

اس ٹیلیفون رابطے کے بعد صدر زرداری وطن واپس آئے ہیں، سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان سے صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا صدر کی واپسی کی ڈیل کا نتیجہ ہے؟

منظور وسان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بارے میں ہی ہمیشہ یہ سوال اٹھایا جاتا ہے، اگر پیپلز پارٹی ڈیل میں یقین رکھتی تو ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو زندہ ہوتے۔

پیپلز پارٹی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کراچی میں بلاول ہاؤس میں چند روز آرام کریں گے، جس کے بعد یہ بھی امکان ہے کہ وہ ستائیس دسمبر کو لاڑکانہ میں بینظیر بھٹو کی چوتھی برسی کی تقریبات میں شریک ہوں یہ بھی ممکن ہے کہ اس موقعے پر وہ پارٹی کارکنوں سے خطاب کریں اور اپنے موقف سے آگاہ کریں۔