کراچی ہفتے کے لیے سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پیر کی علی الصبح دبئی سے صدر آصف علی زرداری کی واپسی کے بعد کراچی شہر کے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن جانے کا امکان بہت بڑھ گیا ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ صدر آصف علی زردری آنے والے دنوں میں سیاسی گھتیاں سلجھانے میں مصروف رہیں گے۔ اسی عرصے میں مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان لوگوں کی حمایت سمیٹنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے حلقوں کے مطابق ڈاکٹروں نے صدر زرداری کو آرام کا مشورہ دیا ہے مگر انہیں کئی معاملات نمٹانے ہیں جو ان کی واپسی تک کے لیے مؤخر کر دیے گئے تھے۔

صدر کی جانب سے تا حال میمو گیٹ کیس میں جواب دائر نہیں کیا گیا۔ امکان ہے کہ ستائیس دسمبر کو بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر وہ وہ اپنا موقف پیش کریں گے۔

سندھ میں بلدیاتی نظام پر پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان کسی فارمولے پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے۔ اس حوالے سے بھی صوبائی قیادت کی نگاہیں صدر کے کسی فیصلے کی منتظر ہیں اور ایم کیو ایم کے وفد کی رواں ہفتے میں صدر سے ملاقات کے امکان ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کی صوبائی حکومت کی واپسی کے بعد سندھ میں وزارتوں کی تقسیم پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق میں اختلافات موجود ہیں۔ مسلم لیگ ق کے وزار سے ماحولیات، نوجوانوں کے امور اور دیگر کچھ وزارتیں واپس لیکر ایم کیو ایم کے وزرا کو دی گئیں تھیں، جس پر مسلم لیگ ق کی صوبائی قیادت نے اپنے تحفظات سے مرکزی قیادت کو آگاہ کردی تھا۔ ان ڈوریوں کو بھی صدر زرداری نے سلجھانا ہے۔

مسلم لیگ نے کے سربراہ میاں نواز شریف پیر کو کراچی پہنچ گئے ہیں، اپنے تین روزہ قیام کے دوران وہ تاجروں، وکلا، سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقاتیں ہوٹلوں اور نجی رہائش گاہوں میں رکھی گئی ہیں مگر کوئی عوامی اجتماع منعقد نہیں کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے وہ صدر زرداری کی دبئی میں موجودگی کے وقت لاڑکانہ میں جلسہ کرچکے ہیں۔ میاں نواز شریف نے صدر زرداری کی صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا۔ کراچی میں موجودگی کے دوران وہ ان کی مزاج پرسی کو جائیں گے یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

بعض تجزیہ نگار میاں نواز شریف کی کراچی میں سرگرمیوں کو تحریک انصاف کے جلسہ کے تناظر میں بھی دیکھتے ہیں۔ مصبرین کا کہنا ہے کہ وہ تین روز میڈیا میں رہ کر شہر میں اپنی اور پارٹی کی موجودگی کا ثبوت دینا چاہتے ہیں۔

عمران خان پچیس دسمبر کو کراچی میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار کے قریب جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ اس حوالے سے شہر کی بڑی شاہراہوں پر بل بورڈ اور بینر آویزاں کیے گئے ہیں، جبکہ موبائل ٹیلیفون پر بھی عمران کی آواز میں پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔

میاں نواز شریف اور عمران خان اس وقت تک سندھ کی کسی بڑی شخصیت کو اپنی جماعت میں لانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

اسی بارے میں