’غیرت کے نام پر چھ سو پچھہتر خواتین قتل‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں رواں سال کے پہلے نو ماہ میں چھ سو پچھہتر خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔

تنظیم کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ان چھ سو پچھہتر معاملات میں سے دو تہائی ایسے ہیں جن میں شادی شدہ خواتین پر غیر مردوں سے جنسی تعلقات کا الزام لگایا گیا تھا۔

تنظیم کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ کیسز کی یہ تعداد صرف ایک اندازہ ہے اور عین ممکن ہے کہ حقیقت میں یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں عورتوں کے خلاف جرائم مزید بڑھ رہے ہیں اور اس بارے میں مکمل رپورٹ اگلے سال فروری میں منظرِعام پر لائی جائے گی۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ قتل ہونے والی خواتین میں سے اکہتر کی عمر اٹھارہ برس سے کم تھی۔

واضح رہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق سنہ دو ہزار دس میں پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کی تعداد سات سو اکانوے تھی اور ان میں سے چار سو پچاس کو جنسی تعلقات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے جبکہ ایک سو انتیس کو اجازت کے بغیر شادی کرنے کی وجہ سے قتل کیا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سنہ دو ہزار دس میں ہلاک ہونے والی خواتین میں سے انیس کو ان کے بیٹوں نے، انچاس کو ان کے والد نے اور ایک سو انہتر کو ان کے خاوند نے قتل کیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر علی دایان حسن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی ہے جس کی وجہ سے قبائلی رہنماء اور دیگر افراد قانوں اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’غیرت کے نام پر کیے جانے والے قتلِ عام کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ قوانین اور انتظامیہ کے نظام میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اس مسئلے سے آگاہ کیا جائے‘۔

خیال رہے کہ رواں ماہ ہی پاکستانی پارلیمان نے خواتین کے استحصال کی روایات کے خلاف بِل کی منظوری دی ہے۔

یہ قانون خواتین کی صلح کے بدلے، ونی یا سوارہ، جبری یا قرآن سے شادی اور خواتین کو املاک میں حقِ وراثت سے محروم رکھنے کے بارے میں ہے اور اس کے تحت بدل صلح، ونی یا سوارہ، جبری یا قرآن سے شادی کے مرتکب افراد کو دس برس قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا اور یہ جرائم ناقابل ضمانت ہوں گے۔

اسی بارے میں