اورکزئی: فوجی کیمپ پر شدت پسندوں کا حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اورکزئی ایجنسی میں کافی عرصے سے غیر اعلانیہ آپریشن جاری ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر مُسلح شدت پسندوں کے حملے میں اٹھارہ اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور جوابی کاروائی میں بیس سے زیادہ شدت پسند ہلاک کر دیےگئے ہیں۔

دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے دعوٰی کیا ہے کہ حملے میں تیرہ اہلکاروں کو گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا ہے جبکہ وہ ایک اہلکار کو اغواء کر کے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

ایک اعلٰی فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی صُبح اپر اورکزئی کے علاقے ڈبوری میں سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر درجنوں مُسلح شدت پسندوں نے چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں اٹھارہ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔زخمیوں میں ایک میجر بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے جوابی کاروائی کی ہے جس میں بیس سے زیادہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔اہلکار کے مطابق جوابی کاروائی میں توپخانے کو بھی استعمال کیا ہے۔

اس واقعہ کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے قبول کی ہے۔انہوں نے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلیفون کر کے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملے میں اٹھارہ جنگجوؤں نے حصہ لیا ہے جس میں سے دو جنگجو ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان ترجمان نے دعوی کیا کہ حملے میں ان کے مُسلح جنگجوؤں نے سکیورٹی فورسز کے تیرہ اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک اہلکار کو اغواء کر کے اپنے لے گئے ہیں۔

طالبان ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سے تیس رائفل، دو راکٹ اور دوسرا چھوٹا اسلحہ بھی چھین لیاگیا ہے۔ البتہ فوجی اہلکار نے ان تمام خبروں کی تردید کی ہے۔

یادرہے کہ اورکزئی ایجنسی میں کافی عرصے سے غیر اعلانیہ کاروائی جاری ہے جس میں اب تک سینکڑوں شدت پسند اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں