’مستقبل میں تعلقات، اصول وضع ہونگے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تین معاملات باقاعدہ طور پر طے کرنا چاہتا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں تعلقات کے لیے اصول وضع ہوں گے۔

بدھ کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے زیرِ اہتمام افغان پاکستانی پارلیمانی وفود کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کی خودمختاری کی ضمانت دینی چاہیے اور مستقبل میں ایبٹ آباد طرز کی کوئی یکطرفہ کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان نے چھبیس نومبر کو فوجی چوکی پر نیٹو حملے کے بعد نیٹو سپلائی بند کی، شمسی ائر بیس خالی کرایا اور بون کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ یقین دہانی کرانا ہو گی کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا خیال رکھا جائے گا اور ایبٹ آباد طرز کی یکطرفہ کارروائی پھر کبھی نہیں دوہرائی جائے گی اور اگر کبھی حقائق اور خفیہ کارروائی پر مبنی کوئی رپورٹ ہو تو اس بارے میں کارروائی کے لیے پاکستان سے رابط کیا جائے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ڈرون حملے، جن میں بے گناہ افراد ہلاک ہوئے ہیں کو فوری طور پر روکا جائے کیونکہ ان حملوں کے نتیجے میں حکومت پاکستان کی وہ تمام کوششیں ناکام ہو رہی ہیں جن کے ذریعے شدت پسندوں کو معاشرے سے الگ تھلگ کیا جا رہا ہے۔

واضع رہے کہ چھبیس نومبر کو پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پاکستانی فوج کی دو چوکیوں پر نیٹو کے حملے کے بعد سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔

پاکستان میں فوجی، سیاسی اور عوامی سطح پر ان حملوں کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں