ریاست کے اندر ریاست کی اجازت نہیں:گیلانی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور فوج سمیت تمام ادارے پارلیمان کو جوابدہ ہیں اور کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔

انہوں نے یہ بات انٹیلی جنس ایجنسی ‘آئی ایس آئی‘ کا نام لیے بنا ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جمعرات کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان کے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ پارلیمان کو جوابدہ نہیں ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے اور یہ بات کسی طور پر قبول نہیں۔

انہوں نے کہا ’جب قائد اعظم نے ملک بنایا اور آزادی دلوائی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم یہاں آزادی سے رہ سکیں۔ لیکن اگر یہاں بھی ہم نے محکوم ہی رہنا ہے تو اس حکومت، پارلیمان اور نظام کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر آپ اس ایوان کے رکن ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ آزاد ہیں‘۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کافی پراعتماد دکھائی دیے اور ان کے لب و لہجہ سے لگ رہا تھا کہ وہ فوجی قیادت کے ساتھ متنازع میمو کے معاملے پر پیدا ہونے والے سخت اختلافات کے بعد فوجی قیادت کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ کسی قیمت پر دباؤ قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے فوج کو پارلیمان کے سامنے جوابدہ اس نیت سے نہیں بنایا گیا ہے کہ اپوزیشن کی سبکی ہو بلکہ پارلیمان مضبوط ہو۔

’ہمیں فوج کے لیے بے حد احترام ہے اور ہم مشکل وقت میں فوج کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ان کا وقار بلند کیا ۔۔۔ چاہے وہ سوات آپریشن ہو یا قبائلی علاقوں میں کارروائی ۔۔|۔ ممبئی حملہ ہو یا نیٹو حملہ فوج پر کوئی حرف آنے نہیں دیا ۔۔۔جب اسامہ بن لادن کا معاملہ ہوا تو ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے طور پر کھڑے ہوگئے اور ملٹری اسٹیبلشمینٹ کا امیج بلند کیا ۔۔۔ مشکل معاشی صورتحال کے باوجود فوج کی تنخواہ دوگنی کردی۔۔ وہ ریاست کے اندر ریاست نہیں ہوسکتے۔۔ وہ پارلیمان کو جوابدہ ہیں۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ ’پینتالیس ماہ وزیر اعظم کے طور پر گزارنے کے بعد میں پاکستانی تاریخ کا طویل عرصہ وزیر اعظم رہنے والا شخص ہوں ۔۔۔ ہم عوام کے منتخب لوگ ہیں اور عوام کی بہتری اور پارلیمان کے وقار کے لیے کام کرتے رہیں گے۔‘

انہوں نے اسامہ بن لادن کے بارے میں تحقیقات کرنے والے کمیشن کے بارے میں کہا کہ ’ہم نے ان سے کہا کہ یہ معلوم کریں کہ اسامہ بن لادن چھ سال سے پاکستان میں کیسے رہ رہا تھا تو وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ امریکیوں کو ویزے کیسے دیے ۔۔۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اسامہ بن لادن کس کے ویزے پر یہاں آئے؟‘

وزیراعظم کی تقریر کے بعد حکومتی اراکین نے زوردار انداز میں ڈیسک بجائے اور زندہ باد کے نعرے لگائے۔ اس دوران وزیر اعظم اٹھ کر ایوان صدر میں ملاقات کے لیے چلے گئے جبکہ چوہدری نثار بھی اپنے چیمبر کی طرف چلے گئے۔

قبل ازیں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ماضی میں ہر اپوزیشن حکومت کو گرانے کی سازش کرتی رہی ہے لیکن موجودہ اپوزیشن جمہوری نظام کے خلاف حکومت کا ساتھ دے رہی ہے۔ ’میں پارلیمان کی چھت پر کہنے کو تیار ہوں کہ ہم کسی غیر آئینی تبدیلی کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘

اسی بارے میں