خیبر پختونخوا میں سیاسی گہما گہمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف دیگر جماعتوں کے مقابلے میں بلند بتایا جارہا ہے: تجزیہ کار

شدت پسندی سے متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا میں جہاں پچھلے دو تین برسوں سے سیاسی جماعتوں پر دہشت گرد حملوں کے باعث بظاہر سیاسی سرگرمیاں ماند پڑگئی تھیں وہاں اب سیاسی جماعتوں باقاعدہ عوامی رابطہ مہم کا آغاز کردیا ہے ان میں وہ جماعتیں زیادہ سرگرم ہیں جو عسکری تنظیموں کی مخالف سمجھی جاتی ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز عمران خان کے جلسوں کے بعد دیکھنے میں آیا لیکن اب دیگر سیاسی جماعتیں بھی عوام سے رابطے بڑھانے کےلیے میدان میں کود پڑی ہیں۔

حکمران پشتون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی جسے دہشت گردی کے خلاف مبینہ جنگ کی حمایت کرنے کے باعث گزشتہ تین برس کے دوران طالبان کے ہاتھوں اپنے سینکڑوں کارکنوں اور اراکینِ صوبائی اسمبلی کو کھونا پڑا، وہ بھی اب میدان میں اتر رہی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے تقریباً تین سال کے بعد پہلی مرتبہ اے این پی کے گڑھ سمجھے جانے والے ضلع صوابی میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کیا ہے۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں چارسدہ میں اسفندیارولی خان پر ہونے والے ایک ناکام خودکش حملے کے بعد قوم پرست رہنما نے کچھ وقت کے لیے پشاور آنا چھوڑ دیا تھا اور وہ عوامی مقامات پر کم ہی نظر آتے تھے لیکن اب جب ملک میں نئے انتخابات کی باتیں زور پکڑ رہی ہیں تو ایسے میں اے این پی کے سربراہ اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ ان کی پارٹی کے قائدین شدت پسندوں کے خوف کے باعث عوام میں جانے سے کترا رہے ہیں۔

ان کے ساتھ ساتھ اے این پی سے تعلق رکھنے والے خیبر پختون خوا کے وزیرِاعلی امیر حیدر خان ہوتی بھی پچھلے چند ہفتوں سے صوبہ کے مختلف اضلاع کا دورے کر رہے ہیں جہاں وہ نئے آنے والے انتخابات میں عوامی حمایت کے حصول کے لیے بڑے بڑے منصوبوں اور فنڈز کے اعلانات بھی کر رہے ہیں جن کا ایک خاکہ ذرائع ابلاغ میں اشتہارات کی شکل میں بھی نظر آرہا ہے۔

تاہم اے این پی کے ان اجتماعات کا انعقاد انتہائی سکیورٹی میں کیا جا رہا ہے۔ یہ تاثر بھی عام ہے کہ طالبان کی مخالفت کے باعث آنے والے دنوں میں اس پارٹی کو عوامی رابطہ مہم کے دوران سخت مشکلات کا سامنا پیش آسکتا ہے۔

اس کے علاوہ جماعت اسلامی نے بھی چند دن پہلے پشاور کے رنگ روڈ پر ایک بڑے اجتماع کا انعقاد کر کے اپنی عوامی طاقت دکھانے کی کوشش کی ہے۔

اس اجتماع میں جماعت کے مرکزی رہنماؤں منور حسن اور قاضی حسین احمد نے شرکت کی جبکہ اس کے انعقاد کے لیے کئی دنوں تک تیاریاں کی گئی تھیں جس کی وجہ سے اس میں جماعت کے ہزاروں کارکنوں نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔

اس اجتماع کا ہدف امریکہ اور اس کے اتحادی تھے۔ اجتماع میں دھمکی دی گئی کہ اگر نیٹو کی سپلائی کو بحال کیا گیا تو اس کی سخت مزاحمت کی جائےگی۔

تقریباً ڈیڑھ سال پہلے پشاور کے قصہ خوانی بازار میں جماعتِ اسلامی کی ریلی پر بھی ایک خودکش حملہ کیا گیا تھا جس میں بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ادھر صوبہ کے مختلف اضلاع میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون، مسلم لیگ قاف اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما بھی سرگرم ہیں تاہم ان جماعتوں کی طرف سے مرکزی شہروں میں اب تک کوئی بڑا عوامی اجتماع دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔

لیکن ان تمام تر عوامی رابطوں کے باوجود صوبے کی سیاست میں عمران کی تحریکِ انصاف ’اسٹبلشمنٹ‘ کی چھاپ کے باوجود بھی ایک نئی سیاسی جماعت کے طورپر ابھر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں چند اہم سیاسی شخصیات نے تحریکِ انصاف میں شامل ہو کر اس صوبہ کے سیاسی افق پر کھلبلی مچا دی ہے۔

سیاسی امور پر نظر رکھنے والے پشاور کے سینیئر صحافی ایم ریاض کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں رائے عامہ کے جائزوں اور تجزیوں کے مطابق تحریکِ انصاف کی مقبولیت کا گراف دیگر جماعتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ بلند بتایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں روایتی طورپر تمام جماعتوں کا مخصوص اضلاع میں اپنا اپنا ووٹ بینک ہے لیکن عمران خان کو فائدہ اس بات کا ہے کہ ان کی پارٹی میں وہ سیاسی شخصیات شامل ہو رہی ہیں جو اس سے پہلے کئی مرتبہ قومی یا صوبائی اسمبلی کے ارکان رہ چکے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کی طرف سے عوامی رابطہ مہم شروع کرنے سے ایک یہ تاثر بھی مل رہا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر ہورہی ہے جس کا ہر سطح پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں