’غیر آئینی مداخلت ممکن نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیراعظم گیلانی نے تقریر میں کہا کہ فوج سمیت تمام ادارے پارلیمان کو جوابدہ ہیں اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ایسا نہیں ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے

پاکستان میں حزب مخالف کی کئی جماعتوں نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی تقریر پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ وہ ملک میں مارشل لاء یا غیر آئینی اقدام کے حمایت نہیں کریں گے اور وہ عوام سے مل کر اس کا راستہ روکیں گے۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جہاں پاکستان کی پیپلز پارٹی کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا وہیں انھوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ نون کسی بھی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی اور نہ ہی اس کی اجازت دی جائے گی۔

’پاکستان میں آزاد عدلیہ موجود ہے، آزاد میڈیا ہے، پاکستان مسلم لیگ نون، دیگر جمہوری قوتیں ہیں اور سول سوسائٹی بیدار ہے، کوئی بھی مارشل لاء یا غیر آئینی مداخلت کو اس ملک کے لیے مفید نہیں سمجھتا اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی غیر آئینی مداخلت ہو۔‘

احسن اقبال نے مزید کہا’اگر حکومت عدالتوں کے ساتھ ٹکراتی رہی اور قومی اداروں کے ساتھ محاز آرائی کرتی رہی تو حکومت کو خطرہ ہو سکتا ہے اور وہ جمہوریت کے لیے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے ہیں۔‘

مسلم لیگ نون کے رہنما نے کہا کہ اگر حکومت ناکام ہوتی ہے تو ایسی صورت میں ملک میں نئے انتخابات لازمی ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کی جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر پروفسیر خورشید احمد نے پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی تقریر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ’بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مجرم کا ضمیر تلملاء رہا ہے اور چاہتا ہے کہ کوئی ایسی صورت حال بن جائے جس سے ان کی کمزوریوں اور خامیوں پر پردہ پڑا رہے اور وہ شہید ہوکر لوگوں کے سامنے جا سکیں۔‘

انھوں نے کہا’جمہوریت کو ان سے خطرہ نہیں ہے جن کی طرف وزیر اعظم اشارہ کر رہے ہیں بلکہ جمہوریت کو ان افراد سے خطرہ ہے جو جمہوریت کے نام پر واویلا کر رہے ہیں اور دستور اور قانون کی حمکرانی کا راستہ روک رہے ہیں۔‘

سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے مزید کہا’مارشل لاء نہیں لگنا چاہیے، مجھے توقع ہے ایسا نہیں ہوگا، فوج یہ حماقت نہیں کرے گی، اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے، عوام بھی فوج کو ایسا کرنے سے روکے گی، اگر مارشل لاء لگا تو سپریم کورٹ، عوام اور سیاسی جماعتوں کو مل کر اس سے روکنا چاہیے۔‘

بلوچستان کی قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے رہنماء سینیٹر عبدالمالک نے کہا کہ تمام جمہوری قوتوں کو غیر جہمہوری طاقتوں کے خلاف متحد ہو کر اس کا راستہ روکنا چاہیے۔

’یہاں پر آمر، مارشل لاء، ڈکٹیٹر شپ ہمارے لیے نہ پہلے قبول تھے اور نہ اب قبول ہیں، ہم سمجھتے ہیں اس نظام کو چلنا چاہیے، یہاں محلاتی سازشیں ہو رہی ہیں اور اس کے لیے تمام جمہوری اور قوم پرست قوتوں کو اکھٹا ہونا چاہیے اور اس کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے۔‘

پاکستان کی پیپلز پارٹی کی حکومت اور فوج کے درمیان دراڑ واضح ہوتی جا رہی ہے لیکن مستقل قریب میں پاکستان کے سیاسی حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اس مرحلے پر اس سوال کا جواب کا شاہد ہی کسی کے پاس ہو۔

اسی بارے میں