’قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں، جمہوریت کی حمایت جاری رہے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ 1
Image caption ’قومی سلامتی کے معاملات کو صرف اور صرف میرٹ پر زیرِ غور لانا چاہیے‘

پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ فوج ملک میں جمہوری عمل کے جاری رہنے کی حمایت کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں انہوں نے فوج کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کی قیاس آرائیوں کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

بیان میں آرمی چیف نے کہا ہے کہ ’اس طرح کی قیاس آرائیاں حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔‘

جنرل کیانی نے بیان میں کہا ہے ’قومی سلامتی کے معاملات کو صرف اور صرف میرٹ پر زیرِ غور لانا چاہیے۔ دیگر معاملات سے قطع نظر قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔‘

واضح رہے کہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ حکومت کو ہٹانے کی سازش ہو رہی ہے اور ریاست میں ریاست بنانے کا اجازت نہیں دی جاسکتی۔

وزیراعظم نے حکومت کو ہٹانے کی سازش کی بات پر آرمی چیف نے تبصرہ نہیں کیا اور صرف یہ کہا کہ ’فوج جمہوری عمل کی حمایت کرتی تھی اور کرتی رہے گی‘۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف نے بائیس دسمبر کو مہمند اور کرم ایجنسی کی بالائی چوکیوں کا دورہ کیا اور جوانوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ان کی قربانیوں اور حاصلات کی تعریف کی۔

انہوں نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے امریکی وزارتِ دفاع کی جانب سے امدادی رقم دینے کے بارے میں کہا ’کوئی بھی قوم کے شہداء کے خون کی قیمت نہیں لگا سکتا۔‘

حکومتی اور آرمی قیادت کے درمیان متنازع میمو کے معاملے پر اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب فریقین نے سپریم کورٹ میں تحریری جواب داخل کیے۔

جس میں حکومت نے کہا کہ مبینہ میمو غلط ہے اور آرمی چیف نے کہا کہ متنازع میمو درست ہے اور یہ فوج کا مورال کم کرنے کی کوشش ہے۔

ان کے بقول فوج کے مرد اور خواتین اپنے حلف کے مطابق دفاعِ پاکستان کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور اپنے ہم وطنوں کی دعاؤں سے یہ فرض جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں