’کسی کو ٹیک اوور کی اجازت نہیں ہے‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ وقت گذر گیا جب عدالت غیر قانونی اقدامات کی توثیق کیا کرتی تھی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں اداروں میں کسی قسم کے تصادم کی صورتحال نہیں ہے اور کسی کو بھی ’ٹیک اوور‘ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بات انہوں نے سپریم کورٹ میں متنازع میمو کے مقدمے کی سماعت کے دوران درخواست گُزار غوث علی شاہ کی جانب سے وزیر اعظم کے بیان کا حوالہ دینے سے متعلق کہی جس میں کہاگیا تھا کہ جمہوری حکومت کو ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا ’وہ وقت گذر گیا ہے جب عدالت غیر قانونی اقدامات کی توثیق کیا کرتی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے اقدامات کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا تھا۔‘

چیف جسٹس نے پارلیمنٹ کے کردار کو بھی سراہا جس میں اُنہوں نے ان غیر آئینی اقدامات کی توثیق نہیں کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کو عدلیہ پر پورا اعتماد ہے۔

سپریم کورٹ میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق سے استفسار کیا کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب الجواب کے بعد ابھی تک وفاق نے اپنی جواب داخل نہیں کروایا ہے۔

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس ضمن میں جواب تیار کیا جارہا ہے اور بہت جلد اسے عدالت میں جمع کروا دیا جائے گا۔

درخواست گُزار سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنی درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمنٹ موثر طریقے سے کام کر رہی ہوتی تو میمو کا معاملہ سپریم کورٹ میں نہ آتا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی چار قراردادیں متفقہ طور پر پارلیمنٹ سے پاس کی گئی تھیں لیکن اُن میں سے کسی ایک پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔

اُنہوں نے کہا کہ میمو کا حقیقت ہونا ثابت ہوچکا ہے اور اب سے متنازع نہیں رہا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کا فیصلہ تو سماعت کے بعد ہوگا پہلے عدالت کو یہ دیکھنا ہے کہ میمو کا مقصد کیا ہے اور یہ کہاں سے آیا ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات نہیں کرسکتی۔ جس پر بینچ میں شامل جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اس متنازع میمو کے معاملے پر تمام لوگ تحقیقات چاہتے ہیں لیکن طریقہء کار پر اختلاف کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جو بیان جمع کروایا ہے اُس میں اُنہوں نے اُس ملاقات کا بھی ذکر کیا ہے جس میں وزیر اعظم نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر میمو میں صداقت نہیں تھی تو حکومت نے حسین حقانی سے استعفیٰ کیوں لیا۔ چیف جسٹس کے بقول اصولاً ایسی صورتحال میں کسی بھی افسر سے وضاحت اور جواب طلب کیا جاتا ہے استعفیٰ نہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے سینیٹر بابر اعوان کی پریس کانفرنس کے سلسلے میں وزیر اعظم کے وضاحتی بیان کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ بیان مبہم ہے اس لیے دو ٹوک جواب دیا جائے ۔

اٹارنی جنرل نے بابر اعوان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی پریس کانفرنس سے متعلق جواب عدالت میں جمع کروایا جس میں کہا گیا تھا کہ اس پریس کانفرنس میں پارٹی رہنماوں نے صرف تاریخ کے حوالے دیے تھے۔

متنازع میمو سے متعلق درخواستوں کی سماعت ستائیس دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں