ٹانک: حملے کے بعد پندرہ سکیورٹی اہلکار لاپتہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی فورسز دو ماہ سے باڑہ کے کچھ علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے مرکز پر ہونے والے ایک حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پندرہ کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری طرف قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایک مارٹر گولہ گرنے سے ایک خاتون ہلاک اور پانچ بچے زخمی ہوگئے ہیں جبکہ عوامی نشینل پارٹی کے زیرانتظام چلنے والے ایک سکول کو بھی دھماکہ خیزمواد سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ٹانک کے ایک سرکاری اہلکار نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تقریباً پچاس کے قریب مسلح شدت پسندوں نے ملازئی کے علاقے میں قائم فرنٹیر کانسٹبلری کے قلعہ پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ اہلکار کے مطابق حملے کے بعد ایف سی کے پندرہ اہلکار لاپتہ ہوگئے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض اہلکار واپس قلعہ پہنچ گئے ہیں۔

بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت ایف سی قلعہ میں بیس سے تیس کے قریب اہلکار موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسند قلعہ سے اسلحہ اور دیگر ساز و سامان بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

ادھر دوسری طرف قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نامعلوم سمت سے فائر کیا گیا ایک مارٹر گولہ مکان پر گرنے سے ایک خاتون ہلاک اور پانچ بچے زخمی ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح باڑہ سب ڈویژن کے علاقے شلوبر میں نامعلوم مقام سے فائر کیا گیا ایک مارٹر گولہ عام شہری کے مکان پر لگا جس سے وہاں موجود خاتون ہلاک جبکہ پانچ بچے زخمی ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ مارٹر گولہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے داغا گیا تھا۔ تاہم فرنٹیر کور کے ترجمان نے اس کی تردید کی اور الزام لگایا کہ گولہ عسکریت پسندوں کی طرف سے فائر کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سکیورٹی فورسز نے تقربناً دو ماہ سے باڑہ کے کچھ علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس آپریشن کی وجہ سے علاقے میں آئے روز مارٹر گولے گرنے کے واقعات پیش آتے ہیں جس میں اب تک درجنوں عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

ابھی تک کسی بھی فریق نے یہ ذمہ داری قبول نہیں کی ہے کہ یہ گولے کس کی جانب سے داغے جاتے ہیں۔ تاہم مقامی لوگ الزام لگاتے ہیں کہ یہ گولے ان علاقوں سے داغے جاتے ہیں جہاں سکیورٹی فورسز کے دستے تعینات ہیں۔ تاہم سکیورٹی اہلکار اس کی تردید کرتے ہیں۔

ادھر خیبر ایجنسی کے تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے خوگا خیل میں مسلح افراد نے عوامی نیشنل پارٹی کے زیرانتظام چلنے والے باچا خان فاونڈیشن کے ایک سکول کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا ہے جس سے سکول کے دس کمرے تباہ ہوگئے ہیں۔ ایک مرتبہ پہلے بھی اس سکول کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں