’لاپتہ بلوچوں کو منظرِ عام پر لایا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان میں لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے ایک بار پھرانسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لاپتہ بلوچوں کو منظرِعام پر لانے کے لیے اپنا کردار اداکریں۔

لاپتہ افراد کے لواحقین کے مطابق بلوچستان میں گزشہ دس سالوں کے دوران آٹھ ہزار سے زیادہ بلوچ لاپتہ ہوئے ہیں جن میں سے تین سو افراد کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ سنیچر کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے علامتی بھوک ہڑتالی کمیپ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائیس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران آٹھ ہزارسے زیادہ بلوچ نوجوان لاپتہ ہوچکے ہیں۔

کیمپ میں موجود ڈاکٹردین محمد کی کمسن بیٹی مہلب بلوچ نے کہا کہ ان کے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ اٹھائیس جون سنہ دوہزار نو سے لاپتہ ہیں لیکن آج تک انہیں نہیں معلوم کہ ان کے والد کہاں اور کس حال میں ہیں۔

مہلب بلوچ نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے ان کے والد سمیت دیگر لاپتہ بلوچوں کومنظرِ عام پر لانے کا مطالبہ دہرایا۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اس سال لاپتہ افراد کو منظرِعام پرلانے کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹں جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔

تاہم قوم پرستوں کا کہنا ہےکہ کمیشن کے قیام کے باوجود کوئی شخص منظرِعام پر نہیں آسکا لیکن لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں انہیں ضرور ملی ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات آغا حسن کا کہنا ہے کہ جب تک بلوچستان میں لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ نہیں رکتا اس وقت تک بلوچستان کے حالات بہتر ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔

اسی بارے میں