’جنرل کیانی کے بیان سے بہتری آئے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افواہوں کا موسم مارچ میں ختم ہوجائے گا: گیلانی

پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پہلی بار فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے جمہوریت کی حمایت میں بیان پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وضاحت کو جہموری حلقوں میں سرہایا گیا ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی جو کل وضاحت آئی ہے وہ جمہوری حلقوں کو اچھی لگی ہے اور لازمی ہے کہ اس سے بہتری آئے گی۔

ایک صحافی کے اس سوال پر کہ متنازعہ میمو کے معاملے پر حکومت کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے اور یہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ وزیرِاعظم عنقرب مستفیٰ ہو جائیں گے تو سید یوسف رضا گیلانی نے کہا’ ہم کوئی کام چھپ کر نہیں کریں گے اور جو بھی ہوگا وہ سامنے آجائے گا۔‘

وزیر ِاعظم نے ایک اور سوال پر کہا کہ افواہوں کا موسم مارچ میں ختم ہوجائے گا۔

اس سے پہلے پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا تھا کہ فوج ملک میں جمہوری عمل کے جاری رہنے کی حمایت کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔

جمعہ کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں انہوں نے فوج کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کی قیاس آرائیوں کو سختی سے مسترد کیا تھا۔

بیان میں آرمی چیف نے کہا تھا کہ ’اس طرح کی قیاس آرائیاں حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔‘

جنرل کیانی نے بیان میں مذید کہا ’قومی سلامتی کے معاملات کو صرف اور صرف میرٹ پر زیرِ غور لانا چاہیے۔ دیگر معاملات سے قطع نظر قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔‘

واضح رہے کہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ حکومت کو ہٹانے کی سازش ہو رہی ہے اور ریاست میں ریاست بنانے کا اجازت نہیں دی جاسکتی۔

وزیراعظم نے حکومت کو ہٹانے کی سازش کی بات پر آرمی چیف نے تبصرہ نہیں کیا اور صرف یہ کہا کہ ’فوج جمہوری عمل کی حمایت کرتی تھی اور کرتی رہے گی‘۔

انہوں نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے امریکی وزارتِ دفاع کی جانب سے امدادی رقم دینے کے بارے میں کہا ’کوئی بھی قوم کے شہداء کے خون کی قیمت نہیں لگا سکتا۔‘

اسی بارے میں