کراچی: عمران خان کے جلسے کی تیاریاں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

کراچی میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کا مزار اس کے سفید گنبد پر پڑنے والی روشنیوں کی وجہ سے دور سے ہی نظر آجاتا ہے مگر سنیچر کو اس مزار سے چند قدم کے فاصلے پر واقع ویران میدان بھی روشنیوں سے جگمگا اٹھا ہے اور یہ روشنیاں سٹیج سے لیکر پنڈال تک پھیلی ہوئی ہیں۔

پچیس دسمبر محمد علی جناح کی پیدائش کا دن ہے، اس روز مزار پر لوگوں کی آمد عام دنوں سے زیادہ ہوتی ہے، یہ ہی دن تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے جلسے کا ہے۔

کراچی میں عام طور پر جلسہ گاہ کا سٹیج ٹرک، ٹرالر یا تختوں کی مدد سے بنایا جاتا تھا، مگر بعد میں ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر کے قریب واقع سڑک پار کرنے کے لیے تعمیر کردہ پل اس مقصد سے استعمال ہونے لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جسلہ گاہ میں پچاس ہزار کرسیاں لگائی گئیں ہیں جو فیملیز کے لیے مختص ہوں گی

عمران خان کے جلسے کا سٹیج کئی کنٹینروں کی مدد سے بنایا گیا ہے، جس کے کئی حصے ویلڈنگ کے ذریعے جوڑے گئے ہیں، سٹیج پر کئی لائٹیں جگمگا رہی ہیں اور ساتھ میں ساؤنڈ سسٹم بھی موجود ہے، جس سے عمران خان کی تعریف میں نغمے چل رہے ہیں ان گیتوں میں سے چند کی دھنیں اور بول پاکستان کے ان ترانوں سے ملتی جلتی ہیں جو قومی نوعیت کے ہیں۔

تحریک انصاف کے دو ہزار رضاکار بھی نظم وضبط برقرار رکھنے اور سکیورٹی کے لیے پولیس کا ساتھ دیں گے، جلسے کے منتظمین ایک دوسرے سے واکی ٹاکی کے ذریعے رابطے میں رہیں گے۔

عام لوگوں کو محمد علی جناح کے مزار کے سامنے سے جلسہ گاہ میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی جبکہ قائدین سٹیج کے عقبی حصے سے داخل ہوں گے۔

پنجاب کے علاوہ لندن اور امریکہ میں تحریک انصاف سے منسلک رہنما اور ہمدرد اس جلسے میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔ سندھ کے دیگر علاقوں سے مخدوم شاہ محمود قریشی کے مریدوں کی بڑی تعداد کی شرکت بھی متوقع ہے۔

جلسہ میں شرکت کے لیے بڑے پیمانے پر اشتہاری مہم چلائی گئی ہے، شہر میں عمران خان کی تصاویر کے بڑے بڑے ہورڈنگس، بینر، پفلیٹ، سٹیکر لگائے گئے ہیں اس کے علاوہ موبائل ٹیلیفون پر ایس ایم ایس اور عمران خان کی آواز میں پیغامات بھی بھیجے جا رہے ہیں۔

جلسہ گاہ کا میدان نشتر پارک اور ککری گراونڈ سے بڑا ہے، جہاں اس سے پہلے سیاسی جماعتیں جلسے کرتی رہی ہیں۔

منتظمین کا دعویٰ ہے کہ میدان میں چار لاکھ لوگوں کی گنجائش ہے اور اس میں پچاس ہزار کرسیاں لگائی گئیں ہیں جو فیملیز کے لیے مختص ہوں گی۔

Image caption جلسہ گاہ کا میدان نشتر پارک اور ککری گراونڈ سے بڑا ہے، جہاں اس سے پہلے سیاسی جماعتیں جلسے کرتی رہی ہیں

کراچی میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ شہر کی بعض سیاسی جماعتیں پس پردہ اس جلسے میں معاونت کر رہی ہیں اور جلسے میں ان کے کارکنوں بھی شریک ہوں گے، اس کے لیے انہیں ہدایت جاری ہوچکی ہیں۔ اس کو یہ جماعتیں مستقبل کی سرمایہ کاری تصور کرتی ہیں۔

بارہ مئی دو ہزار سات کو کراچی میں اس وقت کے معزول چیف جسٹس کی کراچی آمد پر پرتشدد واقعات کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے چار بار کراچی آنے کی کوشش کی لیکن ہر بار ان کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ مئی دو ہزار نو میں صوبائی حکومت نے انہیں کراچی آمد کی اجازت دی۔

کراچی کی اکثریتی جماعت متحدہ قومی موومنٹ سے عمران خان کے اختلافات رہے اور انہوں نے ایم کیو ایم اور اس کی قیادت کے خلاف برطانوی حکومت کو اپنی شکایت سے بھی آگاہ کیا، ان ہی دنوں کراچی کی دیواریں عمران اور سیتا وائیٹ کے ناموں سے رنگ دی گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی عدالت کی جانب سے پاکستانی سائنسدان عافیہ صدیقی کو سزا پر ایم کیو ایم نے بھی احتجاج کیا اور اسی سلسلے میں الطاف حسین نے عمران خان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جو دونوں میں کشیدگی کے بعد پہلا رابطہ تھا۔

اس جلسے کے بارے میں بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ مستقبل کی سیاسی منظر کشی کرے گا، مگر یہ ذکر بھی عام ہے کہ جس جماعت کی کراچی میں احتجاجی مظاہروں میں شرکا کی تعداد درجنوں میں ہوں کیا اس کی مقبولیت راتوں رات بڑھ جائے گی یا اس مقبولیت کے لیے ’ نامعلوم کندھے‘ سامنے آئے ہیں جو اتنے بڑے میدان کو لوگوں سے بھرنے میں مدد فراہم کریں گے۔

اسی بارے میں