’جمود آگیا تھا اس لیے پینتیس سالہ تعلق توڑا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سابق سینیئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ جماعت میں رہتے ہوئے ان کے مشن میں جمود آ گیا تھا اس لیے جماعت چھوڑی۔

یہ بات انہوں نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہی۔

واضح رہے کہ ہفتے کے روز کراچی میں جاوید ہاشمی نے عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

’میں شائد پاکستان میں پہلا سیاستدان ہوں گا جس نے پینتیس سال کے تعلق کو اس لیے توڑا ہے کہ میرے مشن اور مقاصد میں جمود آ گیا تھا اور میں یہ جمود نہیں دیکھ سکتا تھا۔‘

’مشن میں جمود آگیا تھا‘: سنیے

مسلم لیگ نواز کو چھوڑ کر عمران خان کی تحریکِ انصاف میں شمولیت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کام کرنے کے جو مواقعے ان کو ملنے چاہیے تھے وہ ان کو نہیں مل رہے تھے۔

’میں بھی یہ نہیں چاہتا تھا کے جماعتوں میں اکھاڑ پچھاڑ ہو لیکن میں بے بس ہو گیا تھا۔ جو مجھے کام کرنے کے مواقعے ملنے چاہیے تھے وہ مجھے نہیں ملے۔ اس لیے میں نے یہ ہی بہتر سمجھا کہ جو پہلے ہی سے اس جد و جہد میں لگی ہوئی ہے اس کے ساتھ ملنا چاہیے اور ہم منزل جلدی پا لیں۔‘

جاوید ہاشمی نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز سرمایہ داروں اور وڈیروں سے بھر رہی تھی اور انہوں نے سوچا کہ وہ بھی کہیں ان کا حصہ نہ بن جائیں۔

’عمران خان خود چل کر پیرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آج تک میں خود کسی کے پاس چل کر نہیں گیا۔ آیے میرے ساتھ یہ جنگ کریں۔ اور عمران خان نے جماعت میں وڈیروں کو جمع کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کامیابی کا انحصار جماعت کی مرکزی قیادت پر ہو گا کہ وہ کس طرح موجودہ لوگوں کو مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہے۔

اس سوال پر کہ انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کھل کر پہلے کیوں نہیں کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس بات کا اعلان میاں نواز شریف کے اہلِ خانہ میں بیٹھ کر کیا تھا۔

’میں نے چھپ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ میں نے ان کے (میاں صاحب) کے اہلِ خانہ میں بیٹھ کر اس بات کا اعلان کیا۔ وہ خود تو موجود ہوتے نہیں ہیں۔ چار سالوں میں وہ پانچ منٹ بھی مجھے نہ دے سکے۔ اب جب استعفے کی بات کی تو انہوں نے بلا لیا۔ میں نے پوری جماعت کو بتایا ہے کہ میں تحریکِ انصاف میں جا رہا ہوں۔‘

اسی بارے میں