’پنجاب کے مقابلے، کراچی کی اپنی سیاست‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سندھ کے شہری اور پنجاب کے دیہی علاقوں میں فیلڈ قدرے محتلف ہے: فیصل سبزواری

کراچی سے اسمبلیوں میں نمائندہ جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا جلسہ ان کے کارکنوں اور ہمدردوں کی حمایت حاصل نہیں کر سکے گا کیونکہ پنجاب کے مقابلے میں اس شہر کی اپنی سیاست ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کراچی میں سب سے زیادہ نمائندگی رکھتی ہے۔ تنظیم کے رہنما فیصل سبزواری نے اس جلسے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی کی صورتحال مختلف ہے، یہاں بڑے جاگیر دار یا کار خانے والے نہیں پائے جاتے، ایم کیو ایم کا ووٹ بینک نظریات اور سیاسی پیغام کا ووٹ بینک رہا ہے جسے تبدیل کرنا آسان نہیں ہے۔

’اگر کسی جماعت کا کارکن یا ووٹر عمران خان کی جانب جاتا ہے تو پھر تو وہ کسی جماعت کو چیلنج کر سکیں گے بصورت دیگر سندھ کے شہری اور پنجاب کے دیہی علاقوں میں فیلڈ قدرے محتلف ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں لاکھوں طالب علم ہیں اور پچیس دسمبر چھٹی کا دن ہے جہاں یہ جلسہ ہو رہا ہے وہاں ویسے ہی ایک بڑی تقریب ہوتی ہے: بشیر جان

فیصل سبزواری کے مطابق’ پونے دو کروڑ کے شہر میں مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتیں بہت بڑے بڑے جلسے کرتی آئی ہیں، تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت کے لیے شاہ محمود قریشی نے اپنے پیروکاروں کو بھی کہا ہے، شہر سے بھی مختلف لوگ جائیں گے، ٹیلیویژن پر میوزیکل کنسرٹ کی بھی پبلسٹی چل رہی ہے، اس طرح مختلف طریقوں سے لوگوں کو متوجہ کیا جا رہا ہے۔‘

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بھی کراچی کی نمائندگی رکھتی ہے، پارٹی سے وابستہ سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کا کہنا ہے کہ دو کروڑ کی آبادی میں یہ کوئی بڑا شو نہیں ہوگا، بقول ان کے عمران خان کے پاس وہ لوگ جا رہے ہیں جن کو اپنا مستقبل نظر نہیں آ رہا۔

’جلسے میں ملک بھر سے شرکا آ رہے ہیں، جس کا اظہار عمران خان خود کر چکے ہیں، اگر کراچی کے بھی لوگ بھی جائیں تو پونے دو کروڑ کی آبادی میں ایک ڈیڑھ لاکھ لوگ تو آبادی کا نصف بھی نہیں ہوا، یہ شرکا ایک کسی حلقے کی طاقت نہیں یہ تو پھیلی ہوئی ہے۔‘

شہلا رضا کا کہنا تھا کہ’ کئی آمروں نے کوشش کی مگر وہ کبھی پیپلز پارٹی اور اس کے ہمدردوں اور ووٹروں کو الگ نہیں کر سکے، اب بھی اس کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عمران خان کرسیوں کے بغیر جلسہ کر کے دکھائیں تو تب مانیں گے: بشیر جان

عوامی نیشنل پارٹی بھی کراچی کی سیاست میں حصہ دار ہے اور صوبائی اسمبلی میں اس کی دو نشستیں ہیں، تنظیم کے صوبائی سیکرٹری جنرل بشیر جان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اس پوری مہم سے اگر تبدیلی کہیں آ سکتی ہے تو وہ پنجاب ہو سکتا ہے، جہاں ایک چوہدری کے بجائے دوسرا آجائے گا مگر کراچی میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔

بشیر جان کے مطابق کراچی میں لاکھوں طالب علم ہیں اور پچیس دسمبر چھٹی کا دن ہے جہاں یہ جلسہ ہو رہا ہے وہاں ویسے ہی ایک بڑی تقریب ہوتی ہے، عمران خان ایک کرکٹر رہ چکے ہیں اس صورتحال میں چالیس پچاس ہزار کرسیاں رکھ کر جلسہ کیا جا سکتا ہے مگر وہ انہیں تب مانیں گے جب بغیر کرسی کے جلسہ ہوگا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کے مطابق اس جلسے کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جا رہی ہے وہ بھی جلسےاور خرچہ کرتے رہے ہیں مگر اس جلسے میں جو خرچہ کیا گیا ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

اسی بارے میں