’بیساکھیوں کی مدد سے وزارت نہیں چلانا چاہتی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مجھے اس سے زیادہ اپنی تحقیر نہیں کروانی:فردوس عاشق اعوان

وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے اپنی کابینہ کی رکن اور وزیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا استعفٰی مسترد کرتے ہوئے ان کے تحفظات دور کرنے کا یقین دلایا ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم اور جماعت کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کو وجہ بتاتے ہوئے اتوار کو کراچی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران استعفٰی پیش کر دیا تھا۔

مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان آبدیدہ ہوگئی تھیں اور ان کی آواز بھرّا گئی تھی۔

اس موقع پر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ وزارت سے مستعفی ہو رہی ہیں لیکن وہ ہر طرح سے حکومت کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گی۔

انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کر کے کہا کہ ’میں آپ کی اجازت سے یہاں اپنا استعفٰی دینا چاہتی ہوں۔ بطور پارٹی لیڈر میری ہر طرح کی حمایت آپ کے ساتھ ہے لیکن مجھے اس سے زیادہ ڈی گریڈیشن نہیں کروانی‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ انہیں ایسی نشست نہیں چاہیے جہاں بطور وزیر انہیں وزیراعظم اور کابینہ قبول ہی نہ کرے اور جماعت ان کے اقدامات کی توثیق ہی نہ کرے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ مجھے بطور وزیر قبول نہیں کرتے اور نہ ہی جماعت کرتی ہے تو مجھے ایسی کوئی نشست نہیں چاہیے جہاں مجھے جماعت یا وزیراعظم کا اعتماد حاصل نہ ہو‘۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم نے فردوس عاشق اعوان سے ملاقات کی اور ان کے تحفظات دور کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کام جاری رکھنے کو کہا۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان مزارِ قائد پر حاضری دینے گئے جہاں فردوس عاشق اعوان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’میں لولی لنگڑی وزیر نہیں بننا چاہتی اور بیساکھیوں کی مدد سے وزارت چلانا نہیں چاہتی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مکمل اختیارات والا وزیر ہی آج کل کے حالات میں صحیح طور پر کام کر سکتا ہے اور انہیں اس جگہ بیٹھنا ہے جہاں وہ کارکردگی دکھا سکیں اور اس کے لیے انہیں ایک آزادانہ ماحول میں فری ہینڈ دیا جائے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ’ایک وقت میں وزارتِ اطلاعات کا ایک ہی وزیر ہونا چاہیے، چار چار نہیں‘۔

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ ’میں نے وزیراعظم سے کہا کہ کام کے راستے میں رکاوٹیں آ رہی ہیں تو میں استعفٰی دے دیتی ہوں مگر وزیراعظم نے استعفے کو مسترد کرتے ہوئے میرے تحفظات کو دور کرنے کا وعدہ کیا ہے‘۔

خیال رہے کہ فردوس عاشق اعوان کو رواں سال فروری میں حلف اٹھانے والی نئی کابینہ میں قمر زمان کائرہ کی جگہ وزیرِ اطلاعات بنایا گیا تھا۔گزشتہ کابینہ میں ان کے پاس بہبودِ آبادی کی وزارت تھی۔

وہ موجودہ حکومت کی تیسری وزیر اطلاعات تھیں۔ اس حکومت کی پہلی وزیر اطلاعات شیری رحمان تھیں، جن سے استعفیٰ لیا گیا، اس کے بعد یہ منصب قمر زمان کائرہ کے حوالے کیا گیا اور پھر کچھ عرصے کے بعد یہ وزرات فردوس عاش اعوان کے حصے میں آئی۔

فردوس عاشق اعوان دو ہزار دو کے انتخابات میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئی تھیں اور سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں میں سیالکوٹ سے سابق سپیکر چودھری امیر حسین کو شکست دے کر رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہونے والی فردوس عاشق اعوان ان چند خواتین رکنِ اسمبلی میں سے ہیں جو باقاعدہ انتخاب لڑ کر اسمبلی تک پہنچی ہیں۔

اسی بارے میں