تحریکِ انصاف کا جلسہ: لائیو اپ ڈیٹس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں پچیس دسمبر کو تحریکِ انصاف کے جلسے کی تیاریوں اور جلسے کا آنکھوں دیکھا حال، بی بی سی اردو کے رپورٹرز کی زبانی۔

غروب آفتاب کے وقت: ریاض سہیل

سورج غروب ہوچکا ہے جلسہ گاہ میں لائٹیں جل چکی ہیں، اس وقت تحریک انصاف کے صوبائی صدور خطاب کر رہے ہیں، ہر صوبے کے صدر کی آمد سے قبل صوبائی زبان میں گیت چلائے جا رہے ہیں۔

سٹیج پر تحریک انصاف کے جھنڈے کے رنگ کی لائیٹیں یعنی سبز اور سرخ رنگ میں جگمگا رہی ہیں۔

لوگوں سے بار بار یہ پوچھا جارہا ہے کہ کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں، وہ عمران خان کے ساتھ ہیں یا نہیں۔

جلسے میں کہیں بھی پینے کے پانی کا بندوبست نہیں کیا گیا، شرکاء صحافیوں سے پانی مانگتے ہوئے نظر آئے۔ یہ پانی منتظمین کی جانب سے ہی فراہم کیا گیا ہے۔

ٹی وی چینلز کے رپورٹروں کے ساتھ بعض اینکر پرسن بھی موجود ہیں جو کچھ جذباتی نظر آتے ہیں۔

دوپہر چار بج کرچالیس منٹ

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ چار بج کر چالیس منٹ پر جلسہ گاہ میں پہنچے تو ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے زبردست نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا۔ عمران خان نے ہاتھ ہلا ہلا کر نعروں کا جواب دیا۔

دوپہر ساڑھے چار بجے، ریاض سہیل

سٹیج سے پولیس کو گزارش کی گئی ہے کہ سیکورٹی میں نرمی کی جائے شاہراہ فیصل پر ٹریفک جام ہے، جلسے کے داخلی راستے پر رش ہے اس لیے لوگ مزار قائد اعظم کی طرف جا رہے ہیں۔

منتظمین نے اعلان کیا تھا کہ پچاس ہزار کرسیوں کے ساتھ زمین پر دریاں بچھائی جائیں گی مگر اس کا انتظام نظر نہیں آرہا ہے۔

جلسے میں علامہ اقبال کے فرزند جاوید اقبال اور پوتے ولید اقبال بھی شریک ہیں۔ ولید نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ جماعت پاکستان کے لوگوں کو متحد کرنے والی ہے تقسیم کرنے کے لیے نہیں۔ انہوں نے سورۃ اخلاص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ہم توحید پر پورا اترتے ہیں۔ انہوں نے علامہ اقبال کے شعر بھی پڑھ کر سنائے۔

دوپہر چار بج کرپندرہ منٹ، ریاض سہیل

جلسے میں بعض ایسے بینر بھی موجود جن پر تحریر ہے مہاجر نہ پٹھان صرف پاکستان۔ شرکا میں پنجاب، اندرون سندھ، بلوچستان کے لوگوں کی بھی شرکت موجود ہے۔

صدا خان چمن سے آئے ہیں ان کا تعلق اس سے پہلے جماعت اسلامی سے تھا ان کا کہنا ہے کہ اب جماعت اپنے موقف پر قائم نہیں رہی ہے اس لیے وہ عمران کے ساتھ ہیں۔

گلگت بلتستان کے طالب علم بھی موجود ہیں، جن کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سے پہلے کبھی ووٹ نہیں دیا مگر اس بارے دیں گے مگر ان کا ووٹ کراچی میں نہیں گلگت میں ہے۔

بقول ان کے پیپلز پارٹی نے گلگت کو مکمل خود مختاری نہیں دی ہے اب ان کی امید عمران سے وابستہ ہے۔

خیر محمد کا تعلق شکار پور سے ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مرشد مخدوم شاہ محمود قریشی کے کہنے پر یہاں پہنچے ہیں، ان کے مطابق جب وہ پیپلز پارٹی میں تھے تو کبھی انہیں کسی جلسےمیں آنے کے لیے نہیں کہا تھا۔

دوپہر چار بج کر دس منٹ، ریاض سہیل

جلسے میں لوگوں سے کراچی وسطی، سہراب گوٹھ اور دیگر علاقوں سے حوالے سے پوچھا گیا اور لوگوں نے جھنڈے ہلا کر اپنی موجودگی کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد پشتون کہاں ہیں، سندھی کہاں، اردو بولنے والے کہاں ہیں ہر طرف سے جھنڈے لہرائے گئے اور آخر میں پاکستانی کہاں ہے کا سوال کیا گیا ۔

شرکا کے ہاتھوں میں تحریک انصاف کے جھنڈے ہزاروں کی تعداد اور پاکستان کا قومی جھنڈا صرف چند ہاتھوں میں نظر آ رہا ہے۔

جلسے کی کارروائی کے دوران نعرے لگائےگئے کہ ہر بار ہم ملک بچانے نکلیں ہیں، آو ہمارے ساتھ چلو، اے قائد اعظم تیرا احسان ہے جیسے گیت چلائے جا رہے ہیں۔

دوپہر تین بج کر پچاس منٹ، ریاض سہیل

جلسے میں لوگوں سے کراچی کے مختلف علاقوں کے بارے میں سٹیج سے پوچھا گیا اور لوگوں نے جھنڈے ہلا کر اپنی موجودگی کے بارے میں بتایا۔

اس کے بعد پشتون کہاں ہیں، سندھی کہاں، اردو بولنے والے کہاں ہیں، کے سوال کیے گیے جس پر ہر طرف سے جھنڈے لہرائے گئے اور آخر میں پاکستانی کہاں ہے کا سوال کیا گیا۔

شرکاء کے ہاتھوں میں تحریک انصاف کے جھنڈے ہزاروں کی تعداد میں دیکھے جا رہے ہیں اور پاکستان کا قومی جھنڈا صرف چند ہاتھوں میں نظر آ رہا ہے۔

جلسے کی کارروائی کے دوران ’ہم ملک بچانے نکلیں ہیں‘، ’آو ہمارے ساتھ چلو‘ ، ’اے قائد اعظم تیرا احسان ہے‘ جیسے گیت چلائے جا رہے ہیں۔

دوپہر تین بج کر بارہ منٹ، حسن کاظمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سٹیج سے جلسے کے باقاعدہ آغاز کے اعلان کے ساتھ ہی تلاوتِ قرآن کے بعد مشہور گلوکار اور حال ہی میں تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے ابرار الحق نے نعت گوئی کی ہے۔

پاکستان میں دیگر سیاسی جلسوں کی مانند یہ جلسہ بھی مقررہ وقت سے دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد پنڈال میں پہنچ چکی ہے تاہم ابھی تک جماعت کا کوئی مرکزی رہنما سٹیج پر نظر نہیں آیا ہے۔

جلسے کے آغاز سے قبل سٹیج سے شرکاء کو کہاگیا کہ وہ میڈیا کی مداح میں نعرے لگائیں جبکہ پنڈال پاکستانی گلوکاروں کے نغموں سے گونجتا رہا۔

دوپہر دو بج کر پچاس منٹ، ریاض سہیل

جلسے میں چاچا کرکٹ کے نام سے مشہور سیالکوٹ کے بزرگ بھی شریک ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جس طرح عمران ٹیم اور ہپستال چلاتے رہے ہیں انہیں یقین ہے کہ وہ اسی طرح پاکستان کو چلائیں گے۔

جلسے میں شریک بعض خواتین نے تحریحک انصاف کے جھنڈے کے کپڑے اور دوپٹے پہن رکھے ہیں۔ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ سرخ رنگ تبدیلی اور سبز رنگ امن کی نشانی ہے عمران خان کا یہ ہی نعرہ ہے۔

جلسے کے آغاز سے قبل پاکستان کے قومی ترانے کی دھن گٹار کی مدد سے بجائی گئی، اس دوران عام لوگ کھڑے ہوگئے مگر صحافی کرسیوں پر موجود رہے جس پر شرکاء نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

شرکاء کو جلسہ گاہ لانے اور لے جانے کے لیے تحریک انصاف کی جانب سے بسوں کا انتظام کیا گیا تھا، یہ لوگ گلشن حدید، اورنگی، ملیر، مچھر کالونی اور اختر کالونی سے بھی آئے ہیں۔

دوپہر دو بج کر بیس منٹ، ریاض سہیل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جلسہ گاہ کو جماعت کے پرچموں اور خیرمقدمی بینرز سے سجایا گیا ہے

جلسہ گاہ میں موجود لوگوں کی تعداد اب ہزاروں تک پہنچ چکی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ اپنے اہلِخانہ کے ہمراہ جلسے میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔

پنڈال میں موجود نوجوان افراد میں سے زیادہ تر ممکنہ طور پر آئندہ انتخابات میں پہلی مرتبہ ہی ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے جبکہ ایسے نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے جن کا یقینی طور پر ووٹ نہیں بنا ہے۔

جلسہ گاہ میں موجود ایک خاتون کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ملک سے مہنگائی ختم ہو اور اسی لیے وہ یہاں آئی ہیں جبکہ ایک بارہ سالہ بچی نے کہا کہ پاکستان کا امیج بہتر ہونا ضروری ہے اور عمران خان ہی ایسا کر سکتے ہیں۔

شرکاء کی اکثریت کا تعلق پشتون، ہزارہ اور پنجابی زبان بولنے والے افراد کی ہے جو کہ ڈھول کی تھاپ پر روایتی رقص بھی کر رہے ہیں۔

دوپہر ایک بج کر پچاس منٹ، حسن کاظمی

جلسہ گاہ میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے لیکن اب بھی پنڈال میں لگائی گئی کرسیوں کی بڑی تعداد خالی ہے۔

جلسے میں شرکت کے لیے آنے والے افراد میں تنظیم کے جھنڈے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

منتظمین نے پنڈال میں بڑی تعداد میں جنریٹرز کا انتظام بھی کیا ہوا ہے تاکہ اندھیرا پھیلنے پر کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے۔

جلسے میں آنے والے نوجوانوں کی قابلِ ذکر تعداد عمران خان اور عالمی انقلابی رہنما چے گویرا کی تصویر والے ٹی شرٹس پہنے ہوئی ہے جبکہ کچھ افراد نے فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی طرح سر پر عربی رومال باندھے ہوئے ہیں۔

جلسے کے لیے ایک بڑا سٹیج کنٹینرز کی مدد سے بنایا گیا ہے اور وہاں سے قومی اور علاقائی زبانوں میں ملی نغموں کے علاوہ عمران خان کی مداح میں نغمے نشر کیے جا رہے ہیں۔

دوپہر ایک بجے، ریاض سہیل

مزارِ قائد کے ساتھ واقع جلسہ گاہ میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور سینکڑوں افراد اس وقت پنڈال میں داخلے کے منتظر ہیں۔ شرکاء کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

جلسے میں شرکت کے لیے آنے والوں نے تحریکِ انصاف کے جھنڈے اور عمران خان کی تصاویر اٹھائی ہوئی ہیں۔

جلسہ گاہ کو جماعت کے پرچموں اور خیرمقدمی بینرز سے سجایا گیا ہے۔

پنڈال کی سکیورٹی کا انتظام تحریکِ انصاف کے نوجوانوں پر مشتمل انصاف یوتھ فورس کے ذمہ ہے۔ مزارِ قائد کے سامنے سے عوام کے داخلے کا راستہ رکھا گیا ہے اور اس راستے پر چار واک تھرو گیٹس لگائے گئے ہیں۔

دوسرے مرحلے میں ان کی جسمانی تلاشی لی جا رہی ہے جس کے بعد شرکاء دوبارہ واک تھرو گیٹس سے گزر کر پنڈال میں داخل ہو رہے ہیں۔