اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے: عمران خان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کسی امیدوار کو اس وقت تک پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ نہیں ملے گا جب تک وہ امیدوار اپنے اثاثوں کا اعلان نہیں کرے گا۔

جلسے کی تصاویر

مزار قائد کے قریب بانی پاکستان کے یوم ولادت پر تقریر کرتے ہوئے عمران خان نے پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فلاحی اسلامی ریاست بنانے کے لیے ایک ایسی ٹیم بنا رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں بنی ہوگی اور اس میں کسی کو بھی سفارش پر بھرتی نہیں کیا جائے گا۔

عمران خان نے اپنے روڈ میپ کا اعلان کیا مگر اس میں کوئی غیر روایتی پالیسی نہیں تھی۔ ان کے مطابق ان کی پالیسیاں نوے فیصد عوام کے لیے ہوں گی، تعلیم، صحت، انصاف مفت ہوگا تعلیم ایسی ہوگی جو غریب کا بیٹا بھی وزیر اعظم بن سکے، کسان کو اس کا حق ملے گا۔

انہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو کہا کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے مگر تحریک انصاف ان کے ساتھ ہے ۔

عمران خان نے بلوچستان کا ذکر کیا، اور کہا کہ وہ بلوچستان جائیں گے، انہیں گلے لگائیں گے اور معافی مانگیں گے ۔ان کے مطابق عوامی سونامی کی اگلی منزل تئیس مارچ کو کوئٹہ ہوگی۔

عمران خان نے بتایا کہ سردار آصف احمد علی نے ان سے رابطہ کیا ہے وہ تحریک انصاف میں آنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے نواز شریف سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ میچ کھیلنا چاہتے ہیں وہ جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ انہیں کوئی ٹیم ہی نہ ملے۔ بقول ان کے وہ آصف زرداری کے ساتھ بھی میچ کھیلنا چاہتے تھے مگر وہ ’ریٹائرڈ ہرٹ‘ ہوچکے ہیں۔

لاہور، پشاور، چکوال اور ملک کے دیگر شہروں میں پرہجوم جلسے کرنے کے بعد عمران خان کی جماعت پاکستان کی سیاست میں اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر رہی ہے اور کئی اہم سیاسی شخصیات نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ محمد علی جناح کے مزار پر وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ان کے کلمات پر عمل کریں گے، انہوں نے عوام کا ایک پیسہ بھی چوری نہیں کیا تھا وہ اس کی پیروی کریں گے۔

عمران خان نے لوگوں سے سوال کیا کہ ان پر کبھی میچ فکسنگ کا الزام لگا ہے، عوام نے کہا نہیں۔

سابق وزیر خارجہ شاھ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ائٹمی پروگرام پاکستان کی اشد ضرورت ہے سوال یہ ہے کہ یہ پروگرام کس کو چبھتا ہے؟ ۔

انہوں نے سابقہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی اثاثوں کے پانچ حصار ہیں، جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے ۔’ ایٹمی اثاثوں کو کوئی فزیکل خطرہ نہیں ہے بلکہ پالیسی کے حوالوں سے ہے۔‘

شاھ محمود قریشی کے مطابق ملک کی سمت کا تعین یہاں کے لوگوں کو کرنا ہے باہر سے آکر کوئی راستہ نہیں دکھا سکتا۔

جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ محمد علی جناح نے پاکستان مسلمانوں کو انصاف کے لیا بنایا تھا، آج انصاف یہاں موجود نہیں ہے اسی انصاف کے لیے وہ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کراچی میں بدامنی کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر کراچی پاکستان کا دارالحکومت رہتا تو یہاں ایسی صورتحال نہیں ہوتی، کراچی میں پچیس لاکھ بنگالی موجود ہیں مزید پچیس لاکھ آجاتے اور ان کی اکثریت ہوجاتی۔

کراچی میں ہمارے نامہ ریاض سہیل کے مطابق دسیوں ہزاروں افراد عمران خان کے جلسے میں شریک ہیں۔

عمران خان شام پانچ بجے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ عمران خان جب جلسے میں پہنچے تو ان کے حامیوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا اور ان کے حق میں نعرے بازی کی۔ جلسے کا آغاز تلاوت قرآن اور قومی ترانا بجا کر کیا گیا۔

جلسے میں شریک لوگوں نے جماعت کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں اور بہت سے شرکاء نےجھنڈے کے رنگ کا لباس پہن رکھا ہے۔ حال ہی میں تحریک انصاف میں شامل ہونے والے سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی، شاہ محمود قریشی، جہانگیر جدون اور خورشید قصوری بھی شریک ہیں۔

عمران خان نے جلسے سے پہلے کئی بار کہہ چکے ہیں کہ کراچی میں ان کے جلسے کا مقصد وہاں کے سیاسی حالات کو مزید کشیدہ کرنا نہیں بلکہ وہ لوگوں کو ایک دوسرے کے نزدیک لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جلسے میں بعض شرکاء نے ایسے بینر بھی اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا مہاجر نہ پٹھان صرف پاکستان۔ شرکا میں پنجاب، اندرون سندھ، بلوچستان کے لوگوں کی بھی شریک ہیں۔

جلسے کی کارروائی کے دوران ہر بار ہم ملک بچانے نکلیں ہیں، آؤ ہمارے ساتھ چلو، اے قائد اعظم تیرا احسان ہے جیسے گیت بجائے۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جلسے میں بڑی تعداد میں لوگ اپنے اہلِخانہ کے ہمراہ جلسے میں شریک ہوئے ہیں۔

جلسہ گاہ میں موجود ایک خاتون کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ملک سے مہنگائی ختم ہو اور اسی لیے وہ یہاں آئی ہیں جبکہ ایک بارہ سالہ بچی نے کہا کہ پاکستان کا امیج بہتر ہونا ضروری ہے اور عمران خان ہی ایسا کر سکتے ہیں۔

شرکاء کی اکثریت پشتون، ہزارہ اور پنجابی زبان بولنے والے افراد کی تھی جو کہ ڈھول کی تھاپ پر روایتی رقص بھی کر رہے تھے۔