قومی اسمبلی:جاوید ہاشمی رکنیت سے مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حال ہی میں پاکستان مسلم لیگ نون چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والے سرکردہ سیاسی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے جمعرات کو استعفیٰ دے دیا ہے۔

جاوید ہاشمی نے اس موقع پر کہا کہ لوگ اسمبلیوں سے مایوس ہو رہے ہیں کیونکہ یہاں بیٹھے لوگ ان کے مسائل حل نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بچانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق جاوید ہاشمی جب اپنا استعفیٰ دے کر ایوان سے باہر جانے لگے تو تمام جماعتوں کے اراکین نے بھرپور انداز میں ڈیسک بجا کر انہیں رخصت کیا۔

بھرپور ڈیسک بجانے پر جاوید ہاشمی الٹے پیر آہستہ آہتسہ ایوان سے باہر چلے گئے اور ان کی صاحبزادی میمونہ ہاشمی بھی اپنا استعفیٰ دے کر ان کے ہمراہ روانہ ہوگئیں۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے دبے الفاظ میں اپنی سابقہ پارٹی مسلم لیگ نون کی قیادت سے اہم معاملات میں نظر انداز کرنے پر جہاں شکوہ کیا وہاں میاں نواز شریف کا نام لے کر ان کی کچھ تعریف بھی کی۔

ایک موقع پر جاوید ہاشمی کی مسلم لیگ نون کے رکن حنیف عباسی سے کچھ تلخی ہوگئی اور جاوید ہاشمی چیئر کی طرف پیٹھ کر کے حنیف عباسی سے مخاطب ہوئے اور ان کے موقف کو رد کیا۔جس پر ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے انہیں روکا اور کہا کہ چیئر سے مخاطب ہوں۔

جاوید ہاشمی نے جب کہا کہ مشرف کے خلاف قومی اسمبلی میں احتجاج کے دوران جب وہ جیل میں تھے اور قومی اسمبلی میں ایک رکن جو اب مسلم لیگ نون میں ہیں، انہوں نے ان کی بیٹی میمونہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو حنیف عباسی نے انہیں بچایا تھا۔

حنیف عباسی نے کہا کہ وہ شخص مسلم لیگ (ق) کے ساہیوال سے منتخب رکن طاہر علی جاوید تھے جنہیں انہوں نے مارا بھی تھا لیکن جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ زاہد حامد تھے طاہر علی نہیں تھے۔

واضح رہے کہ پرویز مشرف کے دور میں سیالکوٹ سے منتخب رکن قومی اسمبلی زاہد حامد وزیر مملکت برائے قانون تھے اور انہوں نے سید مشاہد حسین کے ہمراہ نیوز بریفنگ میں’این آر او‘ کی حمایت کرتے ہوئے اس کے فوائد گنوائے تھے۔

لیکن سنہ دو ہزار آٹھ میں انہیں مسلم لیگ نون نے ٹکٹ دیا۔ جس پر جاوید ہاشمی نے اپنے رنج کا اظہار کیا لیکن انہوں نے زاہد حامد کو بھی معاف کرنے کا اعلان کیا۔

مخدوم ہاشمی نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے وہ قریب رہے لیکن ان کی جماعت میں شامل نہیں ہوئے۔ ان کے بقول ذوالفقار علی بھٹو ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ملتان میں تقریر کرتے تھے اور وہ تصاویر ان کے لیے سیاسی سرمایہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضیاالحق کے دور میں وہ آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے اور ایک مرتبہ ضیاالحق جب پارلیمان سے خطاب کرنے آئے تو انہیں چیلنج کیا کہ وہ ایک اجنبی ہیں اور اس ایوان میں کیوں آئے ہیں؟

انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ وہ مسلم لیگ نون میں انیس سو اٹھاسی کے ضمنی انتخابات کے دوران شامل ہوئے۔

ان کے بقول جب انیس ستانوے میں پیپلز پارٹی کو صرف اٹھارہ سیٹین ملیں تو بینظیر بھٹو کو اپوزیشن لیڈر نہیں بنایا جا رہا تھا جس پر وہ اس وقت کے سپیکر الاہی بخش سومرو سے ملے تھے کہ وہ ایسا نہ کریں۔

جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں لیکن اگر عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے تو وزیراعظم قبل از وقت انتخابات کروا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں