قومی سلامتی کا ڈھانچہ بنایا جائے: جنرل شمیم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں نے کہا ہے کہ قومی سلامتی اب صرف اور صرف فوج کی ذمہ داری نہیں رہی اور نہ ہی اس کی دیکھ بھال چند مخصوص افراد کا بلا شرکت غیرے فریضہ ہے۔

جنرل خالد شمیم وائیں نے کہا کہ قومی سلامتی کو مؤثر طریقہ سے یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ دفاعی حکمت عملی سے متعلق ایک ایسا ڈھانچہ وضع کیا جائے جو ملک کی دفاعی قوت کے تمام عناصر پر مشتمل ہو۔

جنرل خالد شمیم وائیں نے یہ بیان جمعہ کو اسلام آباد میں قائم نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی تیرہویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کی تقسیم اسناد کی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

جنرل وائیں نے کہا کہ مختلف شعبوں، پش منظر اور تجربے رکھنے والے افراد کو یکجا کر کے انھیں قومی سلامتی پر سوچنے کا موقعہ فراہم کر کے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی نے قومی یکجہتی اور تعمیر نو کو جِلا بخشی ہے۔

ورکشاپ کے شرکاء کو مبارک باد دیتے ہوئے جنرل وائیں نے کہا امید ظاہر کی کہ قومی سلامتی کے بارے میں آگاہی اور علم حاصل کرنے کے بعد وہ عدل کی بیناد پر فیصلے کرنے اور بہتر حکمرانی کے لیے قومی اثاثہ ثابت ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ملک کے عسکری اداروں اور سول نوکرشاہی کے لیے ایک بہتریں درس گار بن گئی ہے۔