متنازع میمو: آئینی درخواستیں قابلِ سماعت قرار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے متنازع میمو سے متعلق دائر درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔

جمعہ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بادِیُ النظر میں آئین کے دفعہ 9، 14 اور19اے کے تحت درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ جو معاملات اٹھائے گئے ہیں وہ بنیادی انسانی حقوق سے متعلق قابل جواز اور عوامی اہمیت کے حامل ہیں۔ لہذٰا یہ درخواستیں قابلِ سماعت ہیں۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر جنرل جیمز جوننز کے ذریعے امریکی فوج کے سابق سربراہ مائیک مولن کو پہنچانے کے لیے متنازع میمو کی تخیلق یا اس کا متن تیار کرنے کی اصلیت، صداقت اور مقاصد کے تعین کی خاطر تحقیقات کی ضرورت ہے۔

عدالت نے متنازع میمو کی تحقیقات کے لیے بلوچستان کے چیف جسٹس قاضی فیض عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن بھی تشکیل دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس حمید الرحمان اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم اس کیمشن کے اراکین ہیں۔ اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اور سیشن جج جواد عباس حسن اس کیمشن کے سیکرٹری مقرر کیے گیے ہیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق جوڈیشل کمیشن چار ہفتوں کے اندر اندر متنازع میمو کے معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گا۔

کمیشن کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ وکلاء اور فورنسک ماہرین کی خدمات بھی حاصل کر سکتا ہے۔

یہ کمیشن بلیک بیری کے پیغامات کی تحقیقات کے لیے وزارتِ خارجہ اور اٹارنی جنرل کے ذریعے متعلقہ کمپنیوں سے رابط کر سکتا ہے۔

عدالت کے مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، ڈی جی ایف آئی اے، امریکہ میں پاکستانی سفارت خانہ اور برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمیشن اس جوڈیشل کمیشن کے ساتھ معاونت کے پابند ہوں گے۔

اس کے علاوہ کمیشن اس متنازع میمو کی بیرون ملک سے تحقیقات کرانے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی عدالتی اجازت نامے کے بغیر بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے اس معاملے میں دائر درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا، وفاق اور بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے میمو کے وجود سے انکار نہیں کیا ہے۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ میمو کے حوالے سے آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

خیال رہے کہ یہ آئینی درخواستیں پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف سمیت نو مدعیان علیہ کی جانب سے دائر کی گئی تھیں جن میں عدالت سے اس معاملے کی فوری سماعت کے لیے استدعا کی گئی۔

عدالت میں میاں نواز شریف کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ اُن کی طرف سے پُرزور مطالبے کے باوجود مجاز اتھارٹی نے نہ تو اس میمو سے متعلق کوئی تحقیقات شروع کیں اور نہ ہی کوئی آزاد اور خود مختار کمیشن تشکیل دیا جو اس واقعہ کی تحقیقات کرسکے۔

دریں اثناء اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے سے اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ آئین اور قانون کے منافی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس متنازع میمو سے متعلق عدالتی فیصلے کی کاپی ملنے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ اس پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنی چاہیے یا نہیں۔

اسی بارے میں