وزیرستان،خیبر ایجنسی میں دھماکے، تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سکیورٹی فورسز نے دتہ خیل میرانشاہ شاہراہ کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کر دیا

پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان اور خیبر میں ہونے والے دھماکوں میں ایک سکیورٹی اہلکار اور دو بچے ہلاک جبکہ چودہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سنیچر کو افغان سرحد سے متصل علاقہ دتہ خیل سے میرانشاہ جانے والے قافلے میں شامل گاڑی بویا کے مقام پر بارودی سرنگ سے ٹکرائی۔

حکام کے مطابق اس دھماکے کے نتیجہ میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔

اہلکار نے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے دتہ خیل میرانشاہ شاہراہ کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے کئی مشکوک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تاہم اس کارروائی میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے قریبی علاقے میں سرچ آپریشن بھی کیا لیکن اس میں کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ اہلکار کے مطابق سنیچر کو صُبح سے میرانشاہ سے دتہ خیل اور غلام خان سے میرانشاہ بازار تک کرفیو بھی نافذ تھا۔

یادرہے کہ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان اور حکومت کے درمیان گزشتہ دو سالوں سے ایک خُفیہ امن معاہدہ موجود ہے۔جس کے بعد سے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے قافلوں پر حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور شدت پسند طالبان کے خلاف کاروائی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ادھر قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جرگہ کے دوران ہونے والے بم دھماکے میں دو بچے ہلاک جبکہ تیرہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق سنیچر کو افغان سرحد کے قریب طورخم اڈہ کے حوالے سے عمائدین علاقہ کا اہم جرگہ جاری تھا کہ اس دوران پہلے سے نصب بم پھٹ گیا اور دھماکے میں دو طلباء موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر تیرہ افراد زخمی ہوگئے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ دھماکہ حجرے کے دروازے پر اس وقت ہوا جب عمائدین جرگہ سے تقریباً فارغ ہو چکے تھے اور زخمیوں میں سے ایک سرکردہ مقامی رہنماء حاجی طاہر شنواری بھی شامل ہیں۔

مقامی لوگوں نے زخمیوں کو فوری طور پر ایجنسی ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل پہنچا دیا جہاں تین زخمیوں کو خراب حالت ہونے کی وجہ سے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔

دھماکہ کے فوری بعد خاصہ دار فورس اور سیکیورٹی فورسز کے جوان جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔

اسی بارے میں