’زرداری اور نواز شریف کی ملاقات جلد متوقع‘

نواب اسلم رئیسانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نواب اسلم رئیسانی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پارٹی تبدیل نہںی کریں گے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کی ملاقات جلد متوقع ہے جس کےلئے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اُن قوتوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی جو غیر جمہوری طریقے سے جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔

اتوار کے روز ایک نجی ٹی وی چینل سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ سمیت ملک کی تمام سیاسی و جمہوری جماعتیں ملک میں جمہوریت کو غیر مستحکم کرنا نہیں چاہتیں بلکہ حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں تاکہ ان قوتوں کے عزائم کو ناکام بنایا جاسکے جو جمہوری نظام کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔

نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے مابین اختلافات کو ختم کرانے کی کوششوں میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے مابین ملاقات کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں اور بہت جلد ملاقات متوقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی سیاست کو پروان چڑھا کر ہی اُن قوتوں کی امیدوں پر پانی پھیرا جاسکتا ہے جو جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلٰی بلوچستان نے کہا کہ ملک میں انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے اور اس معاملے میں کسی کو اپنی جان ہلکان کرنے کی یا فکر مند رہنے کی ضرورت قطعاً نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جو لوگ ادھر سے ادھر جارہے ہیں وہ کٹھ پُتلیاں بنے ہوئے ہیں اور ان کی ڈوریں ہلانے والوں کے چہرے بھی جلد بے نقاب ہوجائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جس ٹرین میں یہ لوگ سوار ہیں اس کا پہیہ زیادہ دیر تک چلنے والا نہیں اور نہ ہی اس ٹرین کی کوئی منزل ہے حالانکہ ٹرین پنکچر نہیں ہوتی لیکن اس نئی سیاسی ٹرین کی ہوا جلد نکل جائے گی۔‘

سیاسی وابستگی کی تبدیلی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’خوبصورت محل میں رہنے کی بجائے میں اپنے کچے گھر میں رہنے کو ترجیح دیتا ہوں اور میں پارٹی تبدیل نہیں کررہا۔‘

اسی بارے میں