گیس بحران:سی این جی سٹیشنز کی ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسلام آباد اور راولپنڈی میں پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا

پاکستان میں گیس سپلائی میں کٹوتی اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف مختلف علاقوں میں گیس سٹیشن کی ہڑتال جاری ہے جبکہ دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔

آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق گیس کی قیمتوں کے خلاف گیس سٹیشنز کی ہڑتال جاری رہے گی۔

احتجاج میں سی این جی پمپس مالکان اور ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شامل ہیں۔

ہڑتال کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں مکمل طور پر غیر معینہ مدت کے لیے جبکہ پنجاب کے زیادہ تر علاقوں میں سی این جی سٹیشن بند ہیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹرانسپورٹر نے منگل کو دوسرے روز بھی سی این جی کی عدم فراہمی پر ہڑتال جاری ہے اور ٹرانسپورٹرز اور شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر سی این جی کی بندش کے خلاف پرتشدد احتجاج کیا، حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور ٹائر جلائے۔

پیر کی طرح منگل کو بھی احتجاج کی وجہ سے اسلام آباد ایکسپریس وے، آئی جی پی ایل اور مری روڈ پر ٹریفک معطل ہوگئی اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین نے راولپنڈی میں جی ٹی روڈ کو بھی بلاک کر دیا جبکہ فیض آباد میں پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج بھی کیا۔

پیر کو پنجاب کے مختلف چیمبرز اور تاجر تنظیموں نے گیس بحران پر ہونے والے اجلاس میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ اجلاس کے بعد لاہور چیمبرآف کامرس سے گورنر ہاؤس تک ایک ریلی بھی نکالی گئی۔اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ سات جنوری کو لاہور میں وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا جائے۔

پیر کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی پیر کو گیس کی قیمتوں میں اضافے اور سی این جی کی بندش کا معاملہ گرم رہا۔ مسلم لیگ نواز نے ملک میں گیس کی قلت اور ایم کیو ایم نے سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

اسی بارے میں