’گیس کی قلت کی وجہ نئے ذخائر نہ ملنا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سی این جی سیکٹر کو اکتیس کروڑ کیوبک فٹ یومیہ گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے وزیر برائے پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم نے متنبہ کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں گیس کی قلت میں شدت آئےگی اور اس کی وجہ طویل عرصے سے پاکستان میں نئے ذخائر کا دریافت نہ ہونا ہے۔

پیر کو کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم نے بتایا کہ اب گھوڑوں اور خچروں پر نہیں بلکہ فضائی ارضیاتی سروے کیا جاتا ہے مگر سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے اس کی اجازت نہیں ملی۔

انہوں نے بتایا کہ پیدل چل کر جو ارضیاتی سروے کیا جاتا ہے، اس کا تجزیہ کرنے کے لیے پاکستان میں یونٹ ہی موجود نہیں ہے۔

ان کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ لمیٹیڈ اس ڈیٹا کے تجزیے پر ایک بلین ڈالر خرچ کرتی ہے جبکہ حیرت انگیز طور پر ان آلات کی قیمت اس سے کہیں کم، تین ملین ڈالر ہے۔ بقول ان کے انہوں نے ان آلات کی خریداری کی منظوری دے دی ہے اور بیس سائنسدان اس سلسلے میں تربیت حاصل کرنے کے لیے مصر جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ او جی ڈی سی ایل نے انیس سو پچاسی سے کوئی رگ یا ڈرل ہی نہیں خریدی اور اس دوران کتنی حکومتیں آئی اور گئیں۔ ان کے مطابق اب ہر سال دو ڈرلز خریدی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں گیس کی کل پیداوار چار اعشاریہ دو ارب کیوبک فٹ یومیہ ہے، جبکہ طلب چھ ارب کیوبک فٹ ہے، جس میں سے اکتیس کروڑ کیوبک فٹ یومیہ سی این جی سیکٹر کو فراہم کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق ’سی این جی سیکٹر دو ہزار ایک میں دو کروڑ کیوبک فٹ یومیہ سے شروع ہوا تھا، پھر سیاسی بنیادوں پر سی این جی سٹیشنوں کے اجازت نامے دیے گئے اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اب جاکر اس پر پابندی عائد کی گئی ہے اس کے علاوہ سی این جی کیٹوں اور سلینڈروں کی درآمد پر بھی پابندی لگائی گئی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ گھریلو صارفین کی طلب چونسٹھ اشاریہ سات کروڑ کیوبک فٹ ہے مگر سردی کے دنوں میں جب گیزر اور ہیٹر چلتے ہیں تو یہ طلب ایک ارب کیوبک فٹ تک بڑھ جاتی ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ آئین کے مطابق جہاں سے گیس حاصل کی جاتی ہے وہاں کی طلب پہلے پوری کرنی ہے، صوبہ بلوچستان سے سترہ فیصد گیس حاصل ہوتی ہے جبکہ استعمال صرف سات فیصد ہے، سندھ سے انہتر فیصد گیس حاصل کی جاتی ہے مگر استعمال صرف اکتالیس فیصد ہے، خیبر پختون خواہ میں گیس کی پیداوار دس فیصد ہے اور استعمال سات فیصد ہے، اسی طرح پنجاب میں گیس کی پیدوار پانچ فیصد جبکہ استعمال پینتالیس فیصد ہے۔

ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ حقائق کو نظر انداز کرکے کچھ لوگ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ سے صورتحال میں کچھ بہتری آئےگی کیونکہ کھپت میں کمی متوقع ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گیس رائلٹی صوبائی حکومتوں کے حوالے کی جاتی ہے مگر وہ پانچ فیصد رقم بھی ان علاقوں میں خرچ نہیں کرتیں جہاں سے گیس نکلتی ہے۔ آئندہ سال گیس پالیسی میں یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ کم سے کم پچاس فیصد رقم اسی علاقے میں خرچ کی جائے۔