خیبر ایجنسی، جھڑپوں میں چار ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کے مطابق امن کمیٹی کے رضاکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں تین شدت پسندوں سمیت چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

خیبر ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صُبح تحصیل لنڈی کوتل سے کوئی پچیس کلومیٹر دور جنوب کی جانب سورغر کے علاقے میں مقامی امن کمیٹی کے رضاکاروں اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

اہلکارنے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین شدت پسند اور ایک امن کمیٹی کا ایک رضاکار شامل ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ جھڑپوں میں فریقین نے چھوٹے ہتھیاروں کے علاوہ بھاری اسلحے کا بھی استعمال کیا ہے۔جس سے فریقین کے مورچوں کو نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اتوار کو بھی لنڈی کوتل کے دور دارز علاقے کارمانہ میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کی تھی۔

کارروائی کے نتیجے میں حکام کے مطابق ایک درجن سے زیادہ شدت پسند مارے گئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر قاری کامران خان بھی تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ قاری کامران نوشہرہ کینٹ، رسالپور اور شبقدر ایف سی ٹریننگ سنٹر پر حملوں میں ملوث تھا۔لیکن طالبان کی طرف سے ابھی تک اس بارے میں کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں