’ہیروز کو یاد کرنے کے اور بھی طریقے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لارنس گارڈن کو اس باغ کے وسط میں موجود لائبریری کے حوالے سے باغِ جناح کا نام دے دیا گیا

چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے بعد اسلامی نظام کے نفاذ کی کوششیں صرف انسانوں تک محدود نہ رہیں بلکہ مختلف علاقوں، سڑکوں اور باغات کے نام بھی ان کوششوں کی زد میں آگئے اور حکومتی سطح پر ناموں کی تبدیلی کا یہ عمل اب بھی جاری و ساری ہے۔

پاکستان میں تعلیمی اداروں اور صنعتوں کو قومیانے کا آغاز انیس سو تہتر میں ہوا لیکن پارکوں اور شاہراہوں کو قومیانے کا عمل بہت پہلے سے شروع ہو گیا تھا۔

پنجاب کے دارالحکومت اور صدیوں کی روایات کے امین شہر لاہور نے تبدیلی کے اس عمل کا سامنا باقی شہروں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ کیا۔ لاہور کے وہ علاقے جن کے نام تقسیم سے قبل ہندوانہ تھے انہیں اسلامی رنگ میں رنگ دیا گیا، کرشن نگر اور دیو سماج کا علاقہ اسلام پورہ بنا اور سَنت نگر کو پہلے سُنت نگر اور پھر ساندہ کا نام دے دیا گیا۔

شیخ عبدالقادر جیلانی کی اسلامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیے لیے آؤٹ فال روڈ کو عبدالقادر جیلانی روڈ کا اسلامی نام دیا گیا۔

ناموں کی یہ تبدیلی صرف اسلامی ہی نہیں بلکہ تاریخی حوالوں سے بھی ہوئی جیسے کہ شہر کی مرکزی شاہراہ مال روڈ کو بانیِ پاکستان کے نام کی نسبت سے شاہراہِ قائدِ اعظم اور پنجاب اسمبلی کی عمارت کے سامنے سے شروع ہونے والی کوئینز روڈ کو فاطمہ جناح کے نام سے منسوب کردیا گیا۔ جیل روڈ کا نام بدل کر علامہ محمد اقبال کے نام پر علامہ اقبال روڈ رکھ دیا گیا جبکہ مال روڈ سے منسلک ڈیوس روڈ کا نیا نام بھی سر آغا خان روڈ قرار پایا۔

مال روڈ پر ہی واقع قدیم میو سکول آف آرٹس کو بھی نیشنل کالج آف آرٹس کا پاکستانی نام دے دیا گیا۔ ٹیمپل روڈ کے حصے میں نوائے وقت کے بانی حمید نظامی کا نام آیا۔

ناموں کی تبدیلی کا یہ عمل صرف سڑکوں تک ہی محدود نہیں رہا، لاہور کے باغات بھی اس کی لپیٹ میں آئے۔ مال روڈ اور لارنس روڈ کے درمیان واقع مشہور و معروف لارنس گارڈن کو بھی باغ کے وسط میں موجود قائدِاعظم لائبریری کے حوالے سے باغِ جناح کا نام دے دیا گیا اور یہ وہی قائد اعظم لائبریری ہے جو ماضی میں منٹگمری ہال کہلاتی تھی۔

تاریخی منٹو پارک کو اقبال پارک کہا جانے لگا اور جیل روڈ پر واقع ریس کورس پارک کا نیا نام بھی ضیاء دور کے گورنر پنجاب لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ غلام جیلانی خان کے نام پر جیلانی پارک قرار پایا۔

پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے ترجمان جاوید شیدا سے جب باغات کے ناموں کی تبدیلی کے حوالے سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ معلوم کرنا کہ یہ نام کیوں کب اور کس کی ہداپت پر تبدیل کیے گئے، ایک بہت طویل کام ہے۔ جب پرانی فائلیں نکالیں گے تو معلوم ہو گا کہ کس مقام کا نام کب اور کس وجہ سے کس سے موسوم ہوا۔

ساٹھ برس سے لاہور میں مقیم مختار احمد شہر کے علاقوں کے ناموں کی تبدیلی کے اس عمل کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرانے نام ان لوگوں کے کارہائے نمایاں کی یاد دلاتے ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے عوامی خدمت کے عمل میں مصروف رہے۔

ان کے مطابق ’اگر حکومت کو اپنے قومی ہیروز کی یاد تازہ کرنی ہی ہے تو اس کے لیے اور پلیٹ فارم بھی موجود ہیں۔ بچوں کا تعلیمی نصاب پاکستان کی تاریخ سے بھرا پڑا ہے اور اگر آج نوجوان نسل وہ سب کتابیں پڑھ کر بھی علامہ اقبال اور قائدِ اعظم کے افکار پر عمل نہیں کررہی تو اس میں سابق وائسرائے ہند لارنس کا کیا قصور ہے۔‘

گو لاہور کی متعدد سڑکیں اور باغات ناموں کی تبدیلی کے اس عمل کا شکار ہوئی ہیں تاہم اب بھی اس شہر میں قدیم ہسپتال اور تعلیمی ادارے اس روش سے کسی حد تک محفوظ رہے ہیں۔

آج بھی لاہور کے شہری لیڈی ولنگڈن ہسپتال، گلاب دیوی ہسپتال، گنگا رام ہسپتال اور میو ہسپتال میں اپنا علاج کرواتے ہیں تو وہیں دیال سنگھ کالج، ایف سی کالج، کوئین میری کالج، کنیئرڈ کالج اور ایچی سن کالج جیسے تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں۔