ایرانی اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ

ایرانی کے سمندری گارڈز تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایرانی نیوی نے بھی پاکستان کے سولہ ماہی گیروں کو گرفتار کر لیا ہے

بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں فائرنگ کر کے پاکستانی شہری کو ہلاک کرنے والے ایرانی اہلکاروں کی رہائی کے لیے پاک ایران مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں جبکہ ان تین ایرانی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق ایرانی سرحد سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع واشک ، تحصیل ماشکیل میں پولیس نے منگل کو ان تین ایرانی سرحدی فورس کے اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے جن کی فائرنگ سے دو روز قبل ایک پاکستان شہری سعید ریکی ہلاک اور اس کا بھائی زخمی ہوا تھا۔

پولیس نے مقدمہ مقتول کے والد عبدالغنی ریکی کی درخواست پر درج کیا ہے۔

ماشکیل سے مقامی صحافی فاروق کمبدانی نے بتایا کہ مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد فرنیٹئر کور نے ایرانی سرحدی فورس کے تین اہلکاروں کو مزید قانونی کاروائی کرنے کے لیے مقامی لیویز کے حوالے کردیاہے۔

دوسری جانب پاک ایران سرحد مزاسر کے مقام پر منگل کو ہی پاکستان اور ایرانی سرحدی حکام ایک اجلا س ہوا جس میں پاکستان کی جانب سے ڈپٹی کمشنر واشک سعید جمالی جبکہ ایران کی جانب سے ایرانی مرزبان نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایرانی حکام نے پاکستان سے تین ایرانی اہلکاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جسے پاکستانی حکام نے مسترد کر دیا۔ پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ تینوں ایرانی اہلکار سیکنڈ لفٹینٹ حجت محمدی، سپاہی مسلم لطفی اور جسین رمضانی نہ صرف غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوئے تھے بلکہ ان کی فائرنگ سے ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایرانی حکام واپس چلے گئے۔

دریں اثناء ایرانی بحریہ کے اہلکاروں نے بلوچستان کے ساحلی علاقے جیونی سے سولہ ماہی گیروں کو اسلحہ کے زور پر حراست میں لے لیا ہے اور انہیں کشتیوں سمیت ایران لے گئے۔

حکومت بلوچستان نے ماہی گیروں کی حراست کی اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد ان ہی ماہی گیروں کی بازیابی کے لیے ایران سے رابطہ کیا جائے گا۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ نصب اللہ بازئی نے بتایا کہ ان سولہ پاکستانی ماہی گیروں کو پیر کو بلوچستان کے ساحلی علاقے جیونی سے ایرانی بحریہ کے اہلکاروں نےگرفتار کیا تھا اور ان کی بازیابی کے لیے جلد ہی حکومتی سطح پر ایران سے رابطہ کیا جائے گا۔

ان ماہی گیروں کا تعلق گوادر، جیونی اور کراچی سے بتایا گیا ہے۔

اسی بارے میں