مہمند: سرکاری سکولوں کی تباہی جاری

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سرکاری اعداد و شُمار کے مطابق مہمند ایجنسی میں اب تک ستر سے زیادہ سکولوں کو نشانہ بنایا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق نامعلوم شدت پسندوں نے لڑکوں کے ایک پرائمری سکول کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا ہے۔

مہمند ایجنسی میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی اعلیٰ صُبح صدر مقام غلنئی سے کوئی پچاس کلومیٹر دور شمال مغرب کی جانب تحصیل صافی میں مُسلح شدت پسندوں نے لڑکوں کے ایک پرائمری سکول میں دو دھماکے کیے جس سے تین کمروں پر مشتمل سکول مکمل طور تباہ ہوگیا ہے۔

سرکاری اہلکار نے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ نامعلوم شدت پسندوں نے بارودی مواد کو سکول کے دو حصوں میں نصب کیا تھا جو یکے بعد دیگرے دو زوردار دھماکوں کے ساتھ پھٹ گیا۔اہلکار کے مطابق دھماکوں سے سکول کی چاردیواری کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے اتنے زور دار تھے کہ پورے گاؤں کے لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور ہر ایک یہ سمجھ رہا تھا کہ دھماکے ان کے گھر کے قریب ہوئے ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق کافی دیر تک سکول سے دھواں اُٹھتا رہا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں شدت پسند طالبان کی جانب سے جب بھی کسی سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے بعد اس عمارت کے ملبے کی حفاظت کے لیے بھی کوئی سرکاری اہلکار موجود نہیں ہوتا ہے۔تو نتیجتاً اس ملبے کو عام لوگ اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شُمار کے مطابق مہمند ایجنسی میں اب تک ستر سے زیادہ سکولوں کو نشانہ بنایا ہے اور ان تمام تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔جس کے باعث ہزاروں طلباء و طالبات تعلیمی سرگرمیوں سے محروم ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں