’فوجی عدالتیں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو کے خلاف مقدمۂ قتل پر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے نہیں بلکہ آئین اور قانون پر عمل کرنے سے ہی انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ کسی کو غلط فہمی نہ رہے کہ سپریم کورٹ نےشیخ لیاقت حسین کیس میں فوجی عدالتوں کے قانون کو کالعدم قرار دیا تھا اور اب اگر کوئی بھی درخواست لیکر آجائے تو یہ فیصلہ تبدیل کیا جاسکتاہے۔

یاد رہے کہ فوجی عدالت نے ایک اور شہری محرم علی کو موت کی سزا سُنائی تھی جسے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی عدالتیں سویلین کا ٹرائیل نہیں کرسکتیں۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور میں اُنیس سو اٹھانوے میں ایک آرڈیننس کے تحت فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں جسے سپریم کورٹ نے سترہ فروری اُنیس سو ننانوے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی عدالتوں میں شہریوں پر مقدمات چلانا غیر آئینی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی بینچ نےصدارتی ریفرنس کی سماعت شروع کی تو عدالت نے صدر کے وکیل بابر اعوان سے استفسار کیا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو چھیاسی کے تحت جو ریفرنس بھیجا گیا ہے اُس میں عدالت کس طرح ایک ایسے مقدمے کی عدالتی سماعت کا جائزہ لے سکتی ہے جس میں تمام قانونی مراحل پورے کیے جاچکے ہوں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ ایک مقدمہ جس کے فیصلے پر عمل بھی ہوچکا ہے اُس کا کیسے دوبارہ جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

صدارتی وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی تاریخ میں ایسی بھی کوئی مثال نہیں ملتی کہ محض مشاورت پر کسی کو موت کی سزا دی گئی ہو۔

صدارتی وکیل کا کہنا تھا کہ صدر نے اس ریفرنس میں عدالت سے رائے مانگی ہے اور عدالت اس بارے میں رائے دینے کی پابند ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صدر وفاق کی علامت ہیں اور اُن کی نظر میں ہر شخص برابر ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ صدر کسی ایک فرد کا کیس عدالت میں نہیں بھیج سکتے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک میں جتنے افراد کو عدالتوں کی طرف سے موت کی سزا دی گئی ہے وہ بھی صدر سے کہہ سکتے ہیں کہ اُن کا ریفرنس بھی بھجوایا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق بھی ابھی عدالت نے فیصلہ کرنا ہے۔

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل فتح ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی عام آدمی کا کیس نہیں ہے بلکہ ملک کے آئین کے خالق کا مقدمہ ہے جسے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر کسی عدالت نے کوئی غلط فیصلہ کیا ہے تو اُس کی تصیح ہونی چاہیے۔

اُنہوں نے پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ اب تو انصاف کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کی بھی باتیں کی جارہی ہیں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ فوجی عدالتیں قائم ہوں گی۔

اُنہوں نے کہا کہ عدلیہ آزاد ہے اور اپنا کام احسن طریقے سے کر رہی ہے۔

عدالتی معاون فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے سے متعلق انتظامیہ اور ججوں کی مجبوری لگتی ہے کیونکہ ججز نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے سے متعلق اُن پر دباؤ تھا۔