مولانا فضل الرحمان کے نواز شریف سے رابطے

نواز شریف: فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کو ملاقات کے لیے پیغام بھیجا ہے

جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمان ) گروپ کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ نہ صرف میاں نواز شریف سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں بلکہ انہوں نے دو چار دن پہلے ہی ن لیگ کے کچھ سینیئر رہنماؤں سے بات بھی کی ہے اور ان کے ذریعے میاں صاحب کو پیغام بھی بھجوایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی وہ میاں صاحب کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ ’کیا انہوں نے میاں نواز شریف کو ملاقات کرنے کے لیے پیغام بھیجا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ اتنی باریکی میں جانے کی ضرورت نہیں ہے، جب مجھے جواب ملے گا تو ملاقات کا وقت بھی طے ہوجائے گا اور طریقہ کار بھی۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کے میاں نواز شریف کے ساتھ بیٹھنے میں کبھی کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنی ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ ایک دوسرے سے ملتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ قبل از وقت انتخابات کے بارے میں اگر حزبِ اختلاف کی جماعتیں مشترکہ طور پر ایک متفقہ موقف اپنائیں تو وہ نہ صرف زیادہ موثر ہوگا بلکہ اس طرح حکومت کو بھی دباؤ میں لایا جا سکےگا۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات کے تناظر میں دیکھا جائے تو بہتر ہے کہ سیاست دان خود ایسا فیصلہ کریں جسے عوام ایک سیاسی فیصلہ سمجھیں بجائے اس کے کہ ایک مقتدر قوت ہاتھ مروڑ کر سیاست دانوں سے کوئی فیصلہ کروائے۔

مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ صرف اس بات کو پیش نظر نہیں رکھنا چاہیے کہ پیپلز پارٹی سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لےگی اس لیے اسے ملیا میٹ کردو، کیونکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس وقت ملک میں ساڑھے تین کروڑ بوگس ووٹ ہیں اور کمپیوٹرائزڈ فہرستوں کی تیاری میں نادرا مصروف عمل ہے اس لیے یہ بھی دیکھنا ہے کہ کب تک ایسی فہرستیں تیار ہوجائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم درست فہرستوں کی بنیاد پر ہونے والے انتخابات پر ہی اعتماد کر سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’ہمیں جہاں انتخابات چاہیئں وہاں قابلِ اعتماد انتخابات بھی چاہیئں اور ووٹ بھی صاف ستھرا ووٹ ہو۔‘

اس سوال پر کہ کیا صدر آصف علی زرداری کی زیر نگرانی ہونے والے انتخابات ان کے لیے قابلِ قبول ہوں گے، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک آزاد الیکشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرنا ہے اور یہ کہ عبوری حکومت کو قابلِ قبول ہونا چاہیے اور اگر ایسا سیٹ اپ آتا ہے اور اس میں اگر آصف علی زرداری آئین کے تحت صدر رہتے بھی ہیں تو وہ اتنے مؤثر نہیں ہوں گے کہ انتخابات پر اثر انداز ہو سکیں۔

اسی بارے میں