تاثیر کی برسی، سرکاری طور پر خاموشی

تصویر کے کاپی رائٹ jupiter still

چار جنوری کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کی پہلی برسی ہے لیکن ان کی یاد میں کوئی بڑی تقریب منعقد کرنے کی اطلاع نہیں۔

کراچی اور لاہور سمیت ملک کے بعض شہروں میں چھوٹی موٹی تقریبات ہوئی ہیں لیکن جس طرح پیپلز پارٹی نے ان کے قتل کے بعد ایک مؤقف اختیار کیا تھا وہ جذبہ کم نظر آ رہا ہے۔

سلمان تاثیر کے میڈیا گروپ میں انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے ایک انگریزی روزنامہ ڈیلی ٹائمز میں آج جہاں سلمان تاثیر کے اہل خانہ کی طرف سے ضمیمہ شائع کیا گیا ہے جس میں ان کی زندگی کی اہم تصاویر اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف ان کی بیان بازی سے متعلق کچھ کارٹون شائع کیے گئے ہیں۔

سلمان تاثیر کو گزشتہ برس چار جنوری کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ کے قریب کوہسار مارکیٹ میں پنجاب کی ‘ایلٹ پولس فورس’ کے محافظ کمانڈو قاری ممتاز قادری نے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

پاکستان کی دائیں بازو کی سوچ کی حامل بیشتر قوتوں نے ممتاز قادری کے اقدام کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کے حق میں بڑے جلوس نکالے۔ لیکن بعض علماء نے قادری کے قتل کے اقدام کی مذمت بھی کی تھی اور کہا تھا کہ انہیں اسلامی یا ریاستی قوانین کے تحت قتل کا اختیار نہیں ہے۔

معتدل سوچ والوں نے سلمان تاثیر کے قتل پر ممتاز قادری کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری سزائے موت دی جائے۔ ممتاز قادری نے جج کے سامنے قتل کا اعتراف کیا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں دو بار سزائے موت سنائی۔

لیکن ٹرائل کے دوران فرد جرم عائد کرنے والے جج کو مقدمے سے علیحدہ ہونا پڑا اور دوسرے جج نے جب انہیں سزا سنائی تو وہ گمنامی میں چلے گئے۔ سلمان تاثیر کے قاتل نے سزا کے خلاف اپیل کی، اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف نے ان کی وکالت کی اور عدالت نے ان کی سزا پر عمل درآمد معطل کردیا اور اب مقدمہ سرد خانے کی نظر ہے۔

ایک طرف سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے کی یہ صورتحال ہے، تو دوسری جانب لاہور کے علاقے گلبرگ سے اپنی مرسیڈیز کار سے اغوا ہونے والے ان کے صاحبزادے شہباز تاثیر کے اغوا کو چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن تاحال ان کی بازیابی ممکن نہیں ہوسکی۔

ممتاز قادری جن کی سزا معطل ہوچکی ہے اڈیالہ جیل کے ایک کشادہ کمرے میں قید ہیں۔ جیل حکام کے مطابق ممتاز قادری کو ‘قانون کے مطابق’ قید میں ازدواجی حقوق، پسند کے کھانے سمیت تمام سہولیات میسر ہیں۔