ایوان میں تلخ کلامی، اے این پی کا واک آؤٹ

قومی اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسمبلی کی کارروائی جمع کی صبح تک کے لیے ملتوی کردی گئی

پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعرات کو متحدہ قومی موومینٹ کی جانب سے جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے بنانے سے متعلق قرارداد پر بحث کے دوران ایوان میں مختلف اراکین کے درمیاں تلخ کلامی ہوئی اور عوامی نیشنل پارٹی نے واک آوٹ کیا۔

متحدہ قومی موومینٹ یعنی ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے جب بحث شروع کی تو مسلم لیگ (ن) کے رانا تنویر اور عوامی نیشنل پارٹی یعنی اے این پی کے اسفند یار ولی نے اعتراض کیا کہ ایم کیو ایم کی قرارداد ایجنڈا پر نہیں ہے اس لیے اس پر بحث نہیں ہوسکتی۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق فریقین ایک دوسرے کے خلاف بولتے رہے اور حکومتی اتحاد کے چیف وہپ سید خورشید احمد شاہ اور نوید قمر ایم کیو ایم اور اے این پی کے نمائندوں کو مناتے رہے۔ اس دوران قائم مقام سپیکر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دو روز قبل ایوان میں جب یہ معاملا آیا تھا اس وقت پورے ایوان کی رائے معلوم کرنے کے بعد طے یہ پایا تھا کہ جمعرات کو بحث ہوگی اور یہ پارلیمانی روایت رہی ہے۔

لیکن مسلم لیگ (ن) اور اے این پی نے ان کی بات نہیں مانی اور احتجاج کرتے رہے۔ اس دوران ایوان میں ہر طرف شور سنائی دیا اور قومی اسمبلی مچھلی بازار کا منظر پیش کر رہی تھی۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے فیصل کریم کنڈی کو مخاطب کیا اور کہا کہ جب سپیکر کا کسی موضوع پر ذاتی مفاد ہو تو وہ ایوان کی صدارت نہیں کرتے۔انہوں نے سرائیکی صوبے کی حمایت سے متعلق فیصل کریم کنڈی کی ایک ٹوئٹ کا بھی حوالہ دیا۔

ہنگامہ آرائی کے دوران ایوان کی کارروائی بیس منٹ کے لیے ملتوی کردی گئی اور فریقین کو موقع فراہم کیا گیا کہ وہ پہلے معاملات طے کریں کہ ایم کیو ایم کی قرارداد پر کارروائی کیسے ہونی چاہئیے ہے۔ جس کے بعد دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو اسفند یار ولی حکومت کے منانے کے باوجود واپس نہیں آئے لیکن مسلم لیگ (ن) نے سرائیکی اور ہزارہ صوبہ بنانے کی قرارداد پر بحث میں حصہ لیا۔ اس دوران اجلاس کی صدارت مسلم لیگ (ق) کے ریاض فتیانہ نے کی۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب میں ایک یا دو صوبے بنائے جا سکتے ہیں اور خیبر پختونخوا کے دو اضلاع ڈیرا اسماعیل خان اور ٹانک کو سرائکی صوبے میں شامل کرنے کے لیے ریفرینڈم کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہزارہ صوبہ چھ اضلاع پر مبنی ہونا چاہیے اور ان کے پاس تربیلا ڈیم کی رائلٹی سمیت بہت وسائل ہیں اور ان کی ایک سو پندرہ ارب روپوں کی آمدن ہے لیکن انہیں پچاس کروڑ ہی ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے جو حالات ہیں یا ہزارہ اور جنوبی پنجاب میں جو محرومیاں ہیں یہ ایک اور بنگلادیش کو جنم دے سکتی ہیں

مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما سردار مہتاب عباسی نےجنوبی پنجاب، سرائیکی اور ہزارہ صوبوں کی حمایت کی اور کہا کہ یہ بہت حساس معاملہ ہے اس کو جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدگی سے حل کیا جائے۔ ان کے بقول جنوبی پنجاب ہو یا ہزارہ وہاں لوگ احساس محرومیوں کا شکار ہیں، وہاں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں نے ایم کیو ایم سے کہا کہ وہ سرائیکی یا ہزارہ کی نمائندہ جماعت نہیں ہے وہ اس معاملے پر سیاست نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ کراچی میں ضلع بنانے کی اجازت نہیں دیتے تو دوسرے علاقوں میں صوبے بنانے کی بات کیسے کرسکتے ہیں‘۔ جس پر مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے ’شیم شیم‘ کے نعرے لگا کر ڈیسک بجائے۔

سردار مہتاب عباسی نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کے بعد مالی وسائل اور پانی کی تقسیم سمیت اہم امور طے کرنے ہیں اس لیے سوچ سمجھ کر اس معاملے پر اتفاق رائے کے بعد آگے بڑھا جائے۔

ہزارہ کے علاقے سے مسلم لیگ (ق) رکن امیر مقام نے کہا کہ ہزارہ صوبے میں ماربل، جیم سٹون اور ہائیڈل بجلی کے قوی وسائل ہیں۔

اس دوران ان کی مسلم لیگ (ن) کے کیپٹن (ر) صفدر سے سخت تلخ کلامی ہوگئی۔ دونوں کے درمیاں نازیبا الفاظ استعمال ہوئے جو کارروائی سے حدف کیے گئے۔ بحث کے دوران ایک بار پھر تلخی پیدا ہوگئی تو کارروائی جمع کی صبح تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں