’رہائی کے بعد شدت پسند تنظیموں میں شمولیت‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان افراد کے شدت پسند اور جرائم پیشہ گروہوں میں شمولیت کی بڑی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل کے قواعد وضوابط پر عمل نہ کرنا ہے

پاکستان کے خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ مختلف مقدمات میں ملوث افراد جیل سے رہائی کے بعد کالعدم شدت پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔

خفیہ اداروں نے اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ ان افراد کی شمولیت سے یہ گروپ مضبوط ہو رہے ہیں۔

پاکستان کی جیلیں عسکریت پسندوں کی نشوونما کا زرخیر میدان

اس رپورٹ میں اُن چار کالعدم تنظیموں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں چھوٹے مقدمات میں ملوث افراد رہائی کے بعد افراد شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ ان میں ملت اسلامیہ پاکستان، غازی فورس، لشکر اسلام اور بلوچستان لیبریشن آرمی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان کالعدم تنظیموں میں سب سے زیادہ افراد صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی جیلوں سے رہائی کے بعد شامل ہو رہے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان کی مچھ جیل سے رہائی پانے والوں میں سے اکثریت بلوچستان لیریشن آرمی میں شامل ہو رہی ہے۔

پاکستانی حکومت نے ملت اسلامیہ پاکستان کو سنہ دوہزار تین میں جبکہ بلوچستان لیبریشن آرمی کو سنہ دو ہزار چھ میں جبکہ لشکر اسلام اور غازی فورس کو سنہ دو ہزار آٹھ میں کالعدم قرار دیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس سویلین خفیہ اداروں کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کے شدت پسند اور جرائم پیشہ گروہوں میں شمولیت کی بڑی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل کے قواعد وضوابط پر عمل نہ کرنا ہے جبکہ اس کے علاوہ ان افراد کی رہائی کے بعد مقامی پولیس کی جانب سے اُن کی سرگرمیوں پر نظر نہ رکھنا بھی شامل ہے۔

جیل کے قواعد وضوابط میں میں یہ واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ چھوٹے اور معمولی جرائم میں ملوث افراد کو جرائم پیشہ اور شدت پسندی کی وارداتوں کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کے ساتھ نہ رکھا جائے۔

اس کے علاوہ معمولی جرائم میں ملوث افراد کی دوبارہ آبادی اور اُنہیں معاشرے کا مفید فرد بنانے کے لیے نہ صرف اُنہیں ایسا ماحول فراہم کیا جائے گا بلکہ مختلف غیر سرکاری تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد ان حوالاتیوں کو ذہنی طور پر پختہ بنانے کے لیے لیکچرز بھی دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صوبہ بلوچستان کی مچھ جیل سے رہائی پانے والوں میں سے اکثریت بلوچستان لیریشن آرمی میں شامل ہو رہی ہے

ذرائع کے مطابق ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک کے مختلف علاقوں سے چار سو سے زائد مشتبہ افراد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا جن سے ابتدائی تفتیش کے دوران اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ قبل ہی جیل سے رہا ہوئے تھے اور قید کے دوران اُن کا زیادہ تر وقت شدت پسندی کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کے ساتھ گُزرا۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان افراد میں سے اکثریت کا کہنا تھا کہ جیل میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے رہن سہن کو دیکھتے ہوئے اور علاقے میں اُن کا اثرو رسوخ دیکھتے ہوئے ان گروپوں میں شامل ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر جیل کے اندر سے ہی اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی جو تمام معاملات کا جائزہ لے گی لیکن تاحال اس کمیٹی نے ابھی تک کام شروع نہیں کیا۔

اسی بارے میں