’دیا ہوا لائسنس منسوخ بھی کرسکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چیف جسٹس نے بابر اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرعدلیہ اُنہیں لائسنس دے سکتی ہے تو اُن کا لائسنس منسوخ بھی کرسکتی ہے

سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزا سے متعلق صدارتی ریفرنس کی پیروی کرنے والے وکیل بابر اعوان کو ایک اور اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیوں نہ اُن کا لائسنس منسوخ کردیا جائے۔

عدالت نے اُنہیں اظہار وجوہ کا نوٹس بدھ کے روز اس ریفرنس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمنائندوں سے گفتگو پر جاری کیا۔

بابر اعوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے عدلیہ کی طرف سے توہین عدالت سے متعلق نوٹس جاری ہونے پر اُنہوں نے عدلیہ کے فیصلے کی تضحیک کی تھی۔

اس گفتگو میں بابر اعوان نے پنجابی کا شعر بھی پڑھا تھا کہ ’نوٹس ملیا ککھ نہ ہلیاں کیوں سونیا دا گلہ کراں میں تے ست واری بسم اللہ کراں۔‘

عدالت نے بابر اعوان کو نو جنوری سے پہلے جواب داخل کروانے کا کہا ہے۔

اُنہوں نے بابر اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدلیہ اُنہیں لائسنس دے سکتی ہے تو اُن کا لائسنس منسوخ بھی کرسکتی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تمام جونیر اور سینیئر ججز کا احترام ہونا چاہیے۔

اس سے پہلے بدھ کے روز سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پہلی دسمبر کو متنازع میمو سے متعلق عدالتی حکم پر پریس کانفرنس کرنے پر سینیٹر بابر اعوان سمیت حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ رہنماؤں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے تھے۔

دیگر رہنماوں میں وفاقی وزیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور خورشید شاہ، پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ اور وزارت قانون کے مشیر فاروق اعوان شامل ہیں۔

عدالت میں موجود ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ جمعرات کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی بینچ نے جب ذوالفقار علی بھٹو کی سزا سے متعلق عدالتی ریفرنس کی سماعت شروع کی تو چیف جسٹس نے صدر کے وکیل بابر اعوان سے استفسار کیا کہ اُنہوں نے گُزشتہ روز عدالتی فیصلے کا مذاق کیوں اُڑایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے عدلیہ کا مذاق نہیں اُڑایا

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے عدلیہ کا مذاق نہیں اُڑایا بلکہ اُس کی عزت کی ہے جس پر عدالت میں چیف جسٹس کے حکم پر بابر اعوان کی صحافیوں سے گفتگو دکھائی گئی۔ اس کے علاوہ اخبارات کے تراشے بھی عدالت میں پیش کیے گئے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب تک اداروں کا احترام نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک سینیئر وکیل کو عدلیہ کے فیصلوں کی تضحیک کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

یاد رہے کہ بابر اعوان کو سنہ دوہزار آٹھ میں سپریم کورٹ کے سنیئر وکیل ہونے کا درجہ دیا گیا۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عدالت اُنہیں سُنے بغیر یکطرفہ کارروائی نہیں کرسکتی۔

صدارتی ریفرنس میں عدالتی معاون اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اداروں میں تصادم کروانا چاہتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ درگزر سے کام لیا جائے اور بھٹو ریفرنس خراب نہیں ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ صدارتی ریفرنس خراب نہیں ہوں دیں گے۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اگر اس بینچ میں شامل باقی دس جج معاف بھی کردیں تو پھر بھی وہ ذاتی طور پر اس معاملے میں کارروائی کا حکم دیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ بابر اعوان کی طرف سے عدالتی فیصلے پر تنقید نہیں بلکہ توہین کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین لطیف آفریدی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے بھی بابر اعوان کے اس بیان کی مذمت کی اور کہا کہ وہ کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں