’جہاد کی تربیت نہیں دی گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یرغمال بنائے جانے والے باجوڑ ایجنسی کے تئیس نوجوانوں میں سے سترہ کو جمعرات کی شام رہا کردیا گیا تھا

تقریباً چار ماہ بعد طالبان کی قید سے رہائی پانے والے باجوڑ ایجنسی کے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انھیں افغانستان کے صوبہ کونڑ کے مختلف پہاڑی مقامات پر ٹولیوں کی شکل میں رکھا گیا تھا جہاں عسکریت پسند اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رہائش پزیر تھے جبکہ دورانِ حراست انھیں دین کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی تھی۔

رہائی پانے والے نوجوانوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جس دن انھیں اغواء کیا گیا اسی رات انہیں ایک تنگ و تاریک سے کمرے میں رکھا گیا تھا تاہم دوسرے دن انہیں مختلف پہاڑی علاقوں میں تین تین اور چار چار کی ٹولیوں میں تقسیم کرکے منتقل کیا گیا جہاں طالبان جنگجو ان کے ہمراہ ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’جس جگہ ہمیں رکھا گیا تھا وہ بڑے بڑے حجرے تھے جس سے متصل اور مکان بھی واقع تھے جہاں طالبان اپنے بچوں اور اہل خانہ سمیت رہائش پزیر تھے اور انہیں خواتین کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا پیش کیا جاتا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ کھانے کا سامان یعنی آٹا، چاول اور دیگر اشیاء گاڑیوں میں آتی تھیں جبکہ طالبان گاڑیوں سے خوراک اٹھا کر حجرے تک لایا کرتے تھے۔ ’ ہم طالبان کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے تھے، یہ عام سا کھانا ہوتا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ دن کے وقت طالبان انھیں باقاعدہ دین کی تبلیغ دیا کرتے تھے جبکہ انھیں صبح و شام نماز اور ذکر کی یادہانی بھی کرائی جاتی تھی۔ تاہم نوجوانوں کے مطابق دورانِ حراست انہیں جہاد کی کوئی تربیت نہیں دی گئی۔

ان کے بقول’ طالبان ہمیں اکثر اوقات گپ شپ کے دوران بتایا کرتے تھے کہ ہمیں اس لیے یرغمال بنایا گیا ہے تاکہ حکومت ہمارے بدلے ان کے کچھ گرفتار ساتھیوں کو رہا کردے۔‘

ایک نوجوان نے کہا کہ روزانہ انھیں شام کو بتایا جاتا تھا کہ کل سب کو آزاد کردیا جائے گا لیکن چار ماہ تک انھیں اس طرح کے دلاسے دیے جاتے رہے لیکن رہائی عمل میں نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ ’جب ہمیں پتہ چلا کہ کل ہمیں آزاد کردیا جائے گا تو سب ساتھی بہت خوش تھے اور ایک ساتھی کفایت تو خوشی سے اچھلتے کھودتےگر پڑا اور اس کے ہاتھ میں چوٹ بھی آئی۔‘

ان کے مطابق زیادہ تر مغوی لڑکے کم عمر تھے جو گھروں سے دور رہنے کی وجہ سے رات کے وقت رویا بھی کرتے تھے جس پر طالبان نے چند لڑکوں کو پہلے رہا بھی کردیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ واپس سرحد سے گزرتے ہوئے تمام لڑکوں کو سخت خوف محسوس ہورہا تھا کیونکہ سب کو افغان فوج کے ہاتھوں گرفتار ہونے کا ڈر تھا جس کی وجہ سے وہ پہاڑی اور کھٹن راستوں سے ہوتے ہوئے گھر پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے تو وہاں باجوڑ ایجنسی کے مشران ، عزیز اور رشتہ دار ان کے استقبال کےلیے موجود تھے۔

ان کے مطابق ’اپنے گھروں کو واپس لوٹنے پر ایسا لگا رہا تھا جیسے انہیں نئی زندگی ملی ہو۔‘

خیال رہے کہ چار ماہ قبل عسکریت پسندوں کی جانب سے عید الفطر کے روز یرغمال بنائے جانے والے باجوڑ ایجنسی کے تئیس کے قریب نوجوانوں میں سے سترہ کو جمعرات کی شام رہا کردیا گیا تھا جبکہ دیگر لڑکے اس سے پہلے آزاد کیے گئے تھے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ ان نوجوانوں کو غیر مشروط طورپر چھوڑاگیا ہے۔

اسی بارے میں