افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز روک دیے گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایف سی نے ایک ماہ قبل بھی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے چالیس کنٹیرز روک دیے تھے

فرنٹیر کور نے پاک افغان سرحد پر واقع بلوچستان کے شہر چمن کے مقام پر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز کو جمعہ کو ایک بار پھر روک دیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں ان کنٹینزز میں نیٹو افواج کو سپلائی تو نہیں کی جا رہی ہے۔

چمن میں ایف سی ذرائع کے مطابق چیکنگ کے بعد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹیرز کو افغانستان میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ ایف سی نے ایک ماہ قبل بھی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے چالیس کنٹیرز روک دیے تھے اور چیکنگ کے بعد ان کنٹیرز کو افغانستان میں داخلے کی اجازت دی گی تھی۔

ایف سی کے اس اقدام کے خلاف افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تاجروں نے پاکستان سے شدید احتجاج بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت کنٹینروں میں سامان کراچی پورٹ پر کسٹم کے عملے کی نگرانی میں سیل کر کے افغانستان روانہ کیاجاتاہے۔

پاکستان کی جانب سے چمن میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز کی تلاشی گذشتہ سال نومبر میں نیٹو کی جانب سے مہند ایجنسی میں ایک پاکستانی چیک پوسٹ پر ایک حملے کے بعد شروع کی گئی تھی جس میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

اس حملے کے بعد حکومتِ نے احتجاجاً پاکستان کے راستے نیٹو سپلائی فوری بند کر دی تھی۔

اسی بارے میں