وزیرستان: امریکی ڈرون حملے میں تین ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ ap

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق امریکی ڈرون طیارے کے حملے میں کم از کم تین شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہونے والا یہ حملہ رواں سال پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پہلا امریکی ڈرون حملہ ہے۔

گزشتہ سال چھبیس نومبر کو مہمند ایجنسی میں سلالہ کے سرحدی علاقے میں پاکستانی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ڈرون حملوں کا سلسلہ روک دیا گیا تھا۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ ڈرون طیارے نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں شہر سے تین کلومیٹر دور مشرق کی جانب گورا قبرستان کے علاقے میں ایک مکان کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ حملہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہوا ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے کا ہدف بننے والے مکان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان مقیم تھے لیکن ہلاک ہونے والوں کے بارے میں فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا وہ مقامی تھے یا ان میں کوئی غیرملکی بھی شامل تھے۔

وزیرستان کے مقامی لوگوں کے مطابق سلالہ کے علاقے میں پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے حملے کے بعد وزیرستان میں طالبان نظر آنے لگے تھے اور ان کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہوگئی تھی لیکن اب تازہ ڈرون حملے کے بعد طالبان ایک بار پھر زیرزمین جانے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کئی سالوں سے شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ڈرون حملوں کو روک دیا گیا تھا۔

سلالہ حملے پر پاکستان کی حکومت نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے جانے والی رسد کو بھی بند کر دیا تھا۔

قبائلی علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملے ایک معمول بن چکا ہے۔

امریکی غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں دو ہزار چار سے لے کر اب تک کل دو سو تراسی امریکی ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون دو ہزار چار کو جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے قریب ہوا تھا جس میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔

امریکی اداروں کے مطابق دو ہزار چار سے لے کر دو ہزار سات تک پہلے چار سالوں میں کل نو حملے ہوئے جبکہ دو ہزار آٹھ میں تینتیس، دو ہزار نو میں تریپن، دو ہزار دس میں سب سے زیادہ یعنی ایک سو اٹھارہ اور دو ہزار گیارہ میں ستر امریکی حملے ہوئے۔

اسی بارے میں