’حقانی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کو تیار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل مبینہ میمو کی تحقیقات کرنے والے تین رکنی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیار ہیں تاہم انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

سابق سفیر کے وکیل سید زاہد حسین بخاری نے بتایا کہ حسین حقانی کی جان کو خطرہ ہے اس لیے کمیشن کو یہ درخواست دی جائے گی کہ حسین حقانی کی پیشی کے وقت انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق سے بات کرتے ہوئے سید زاہد حسین بخاری کا کہنا تھا کہ جب منصور اعجاز نے اپنے بلیک بیری کا پن کوڈ فراہم کردیا تو اس کے بعد کمیشن کو کسی دوسرے شخص کے پن کوڈ کی ضرورت نہیں ہے ۔

سابق سفیر کے وکیل کے بقول منصور اعجاز کے افعال کسی دوسرے کو اپنا پن کوڈ دینے پر مجبور نہیں کرسکتے۔

حسین حقانی کے وکیل کا کہنا ہے کہ مبینہ میمو کو ثابت کرنے کی ذمہ داری منصور اعجاز پر ہے اور پاکستانی قانون کے تحت کسی شخص کو اپنے ہی خلاف شہادت پیش کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

زاہد حسین بخاری نے کہا کہ منصور اعجاز نے کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے جو مطالبات یا شرائط رکھیں ہیں وہ کمیشن کے سامنے پیش نہ ہونے کے مختلف بہانے ہیں۔

بلوچستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی کمشین نو جنوری کو دوبارہ اپنی کارروائی شروع کرے گا اور کمیشن نے حسین حقانی سمیت دیگر حکام کو نوٹس جاری کررکھے ہیں۔

اسی بارے میں