بلوچستان بھر میں زمینداروں کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے زرعی ٹیوب ویلوں پر سبڈی ختم کرنے کےفیصلے کے خلاف زمینداروں نے بلوچستان بھر میں قومی شاہراہوں کوبندکردیا ہے جس کے باعث عام مسافروں کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کےمطابق اتوار کے روز نیشنل پارٹی کی کال پر زمینداروں کے لکپاس اور دشت کے مقامات پر کوئٹہ کراچی، کوئٹہ تفتان اور کوئٹہ سکھر قومی شاہراہوں کو ہرقسم کے ٹریفک کے بندکر دیا ہے جس کے باعث کوئٹہ کے سڑک کے راستے ملک کے اکثر حصوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

شاہراہوں کی بندش کے باعث عام مسافروں کو بھی شدید سردی میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

نیشنل پارٹی کے ترجمان نے کہاہے کہ وفاقی حکومت کاسازش کے تحت بلوچستان کو بنجر بنانے کی کوشش کررہا ہےاور اس مقصد کے حصول کے لیے بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلوں پر دی جانے والی سبڈی کو ختم کردیا گیا۔

ترجمان کےمطابق بلوچستان میں طویل خشک سالی و قحط سالی نے زراعت کو تباہ کردیا اور رہی سہی کسر طویل اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے پوری کردی جس کے باعث زمینداروں کو کروڑوں روپے کانقصان ہوا ہے۔

خیال رہے کہ بلوچستان کے زمینداروں کو کافی عرصے سے زرعی ٹیوب ویلوں پر سبڈی دی جاری تھی اور زمیندار کو صرف چارہزار روپے ماہانہ بل اداکرناہوتا تھا۔

جس پر آبنوشی کے ماہرین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ سبڈی کے باعث بلوچستان کے اکثرعلاقوں میں زیرزمین پانی کی سطع خطرناک حد تک گر رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر زیر زمین پانی نکالنے کا سلسلہ اس طرح جاری رہا تومستقبل میں بہت سے علاقوں سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

اسی بارے میں