متنازع میمو:’منظوری کے بغیر جواب جمع کرائے‘

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’مجاز اتھارٹی سے منظوری کے لیے وزارت دفاع کی طرف سے بھی کوئی سمری نہیں بھیجی گئی‘

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان نے مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ہی متنازعہ میمو سے متعلق دائر کی گئی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں اپنے جوابات جمع کرائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ آرمی چیف( اشفاق پرویز کیانی)، ڈی جی آئی ایس آئی( احمد شجاع پاشا) کی طرف سے متنازعہ میمو کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں داخل کرائے گیے جوابات کے لیے مجاز اتھارٹی کی منظوری نہیں تھی جو قواعد و ضوابط کے مطابق ضروری ہے‘۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ان خیالات کا اظہار چین کے اخبار پیپلز ڈیلی آن لائن ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

اے پی پی کے مطابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’مجاز اتھارٹی سے منظوری کے لیے وزارت دفاع کی طرف سے بھی کوئی سمری نہیں بھیجی گئی اور نہ ہی اس سلسلے میں وزرات دفاع سے کوئی منظوری حاصل کی گئی۔‘

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حکومت کی طرف سے پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی سرکاری اہلکار کا محکمانہ عمل غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

اے پی پی کے مطابق وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس کا حوالہ دے رہے تھے کہ حکومت کی اجازت کے بغیر کسی سرکاری عہدیدار کا اقدام غیر آئینی ہے اس لیے یہ غیر قانونی بھی ہے۔

اسی بارے میں