’بگٹی قتل کیس کی تحقیقات ایف آئی اے کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

بلوچستان کے محکمۂ داخلہ و قبائلی امور نے وزیرِ اعلی بلوچستان اور وفاقی وزارت داخلہ کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا ہے کہ بلوچ سردار نواب اکبر بگٹی کے قتل کی تحقیقات وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے کروائی جائیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق صوبائی محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے ذرائع کے مطابق سال دو ہزار چھ میں بلوچ سردار نواب بگٹی کےخلاف وفاقی فورسز نے آپریشن کیا تھا۔

اس آپریشن میں نواب بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ صوبائی حکومت کے ماتحت کسی ادارے نے آپریشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے سابق صدر جنرل پرویز مشرف، سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور دیگر نامزد ملزمان سے قتل کی تحقیقات کرے۔

صوبائی وزارت داخلہ نے واضع کیا ہے کہ ایف آئی اے انیس سو پچھتر کے ایکٹ کے تحت تین سو دو کے مقدموں کی تحقیقات کرسکتی ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر صوبائی وزارت داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے پہلے ہی نواب بگٹی قتل کیس میں سابق صدر پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور سابق وزیرِ اعلی جام یوسف کے وارنٹ گرفتاری کے احکامات وفاقی وزارت داخلہ کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔ وارنٹ گرفتاری کے ساتھ ایف آئی ار کی کاپیاں بھی بھجوا دی گئی ہیں۔

بلوچ سردار نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی کی درخواست پر ڈیرہ بگٹی پولیس نے نومبر سال دوہزار نو میں بلوچ قوم پرست رہنماء نواب اکبرخان بگٹی کے قتل کے الزام میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف، سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی، سابق وزیرِ اعلی بلوچستان میرجام یوسف اور اس وقت کے صوبائی وزیر میر شعیب نوشیروانی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

جبکہ دو ماہ قبل کوئٹہ کی ایک مقامی عدالت نے نواب بگٹی قتل کیس میں تین ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔

یکم نومبرسال دوہزار گیارہ کو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے حکم دیا تھا کہ نواب بگٹی قتل کیس کے الزام میں بیرون ملک مقیم سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور سابق وزیرِ اعظم سمیت تمام ملزمان کو واپس پاکستان لایا جائے۔

اسی بارے میں