پینتیس فیصد پاکستانی گھرانے غذائی کمی کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سروے کے مطابق ماں اور بچوں کی غذائیت کے معاملات میں پچھلے دس سال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

پاکستان میں پینتیس فیصد گھرانے خوراک کی کمی کا شکار ہیں، دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں صورتحال سنگین ہے جہاں ستر فیصد گھرانوں کو مطلوبہ خوراک دستیاب نہیں ہے۔

ان حقائق کی نشاندہی قومی سروے برائے نیوٹریشن میں کی گئی ہے۔ یہ سروے آغا خان یونیورسٹی کی مدد سے کیا گیا ہے۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ پچاس فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں، یعنی ان کا قد اور وزن اپنی عمر کے مطابق ٹھیک نہیں ہے۔ اسی طرح پچاس فیصد بچوں میں خون اور وٹامن اے اور ڈی کی کمی ہے جبکہ ماؤں میں زِنک کی بھی کمی ہے۔

یہ سروے دس سال بعد کیا گیا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر ساجد صوفی کا کہنا ہے کہ ماں اور بچوں کی غذائیت کے معاملات میں پچھلے دس سال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے حالانکہ اس سے متعلق حکومت کے کئی پروگرام موجود ہیں۔

’حکومت کے پروگرامز میں کوئی ربط نہیں ہے، اس لیے مشترکہ کوششیں سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس کی ایک اور بڑی وجہ ماؤں میں تعلیم کی کمی ہے۔ ساٹھ فیصد مائیں ان پڑھ ہیں، دیہی علاقوں میں تو صورتحال اور زیادہ خراب ہے ۔‘

پورے پاکستان میں کیے گئے اس سروے کے مطابق غربت بھی خوراک کی کمی کی ایک بڑی وجہ ہے جس کی وجہ سے پچاس فیصد گھرانے ایسے ہیں جنہیں مطلوبہ خوراک کا سامان دستیاب نہیں ہے۔

کراچی میں ایک تقریب میں اس سروے پر بحث کی گئی، جس میں سندھ کے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد شیخ بھی شامل تھے۔ انہوں نے سروے کے اعداد و شمار کو ایک حقیقت قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محکمہ صحت کے پروٹین ، نیوٹریشن اور دیگر کئی پروگرام چل رہے ہیں۔

بقول ان کے گزشتہ دو سال میں سیلاب اور بارش کے باعث لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو بے دخل ہونا پڑا جس کے باعث لوگوں کو خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔

’محکمہ صحت کے پروٹین، نیوٹریشن اور دیگر کئی پروگرام چل رہے ہیں۔ جب ہم امیونائزیشن کی بات کرتے ہیں کہ اس کا مطلوبہ نتیجہ کیوں سامنے نہیں آرہا تو اس کی ایک بڑی وجہ خوراک کی کمی ہے۔‘

صوبائی وزیر صحت کے مطابق خوراک کی کمی کا ذمہ دار صرف محکمۂ صحت کو قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ فوڈ پروگرام محکمۂ صحت کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ اس عمل میں محکمۂ خوراک، بہبود آبادی سمیت مختلف محکموں کو شریک کیا جائے گا تاکہ مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسف کے ماہر صحت ڈاکٹر آصف اسلم فرخی کا کہنا تھا کہ یونیسیف، حکومت سندھ اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام لوگ مل جل کر غذائی صورتحال کو بہتر کرسکیں۔

اسی بارے میں