سلیم شہزاد قتل، رپورٹ حکومت کے حوالے

سلیم شہزاد تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کمیشن نے حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ سلیم شہزاد کے بچوں کے یونیورسٹی تک کے تعلیمی اخراجات حکومت ادا کرے

صحافی سلیم شہزاد کے قتل کے محرکات جاننے کے لیے بنائے گئے عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ جلد از جلد منظر عام پر لانے کی ہدایت کے ساتھ حکومت کے حوالے کر دی ہے۔

اس کمیشن میں پاکستان کی صحافی برادری کے نمائندگی کرنے والے سینیئر صحافی پرویز شوکت کے مطابق کمیشن نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ اس رپورٹ کو جتنا جلد ممکن ہو شائع کر دیا جائے۔

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے صحافیوں کے احتجاج کے بعد بنائے گئے اس کمیشن سے کہا گیا تھا کہ وہ سلیم شہزاد کے قتل کے عوامل کی نشاندہی کرے اور ایسے واقعات کے تدارک کے لیے تجاویز مرتب کرے۔

پرویز شوکت کے مطابق کمیشن نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک ادارہ تشکیل دیا جائے جہاں صحافی پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے دوران رکاوٹ بننے والے افراد یا اداروں کے خلاف شکایات درج کروا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وفاقی محتسب کی مثال پہلےسے موجود ہے جہاں سرکاری ملازمین کی اپنے محکمے یا افسران کے خلاف شکایات کا تدارک کیا جاتا ہے۔

پرویز شوکت کے مطابق کمیشن نے حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ مقتول صحافی سلیم شہزاد کے لواحقین کو معقول معاوضہ ادا کیا جائے اور حکومت ان کے بچوں کی یونیورسٹی تک کے تعلیمی اخراجات ادا کرنے کی پابند ہو۔

کمیشن کے رکن اور صحافیوں کی ملک گیر تنظیم کے رہنما نے کہا کہ کمیشن نے چار ماہ سے زائد جاری رہنے والی اپنی کارروائی کے دوران چالیس سے زیادہ افراد کے بیانات قلم بند کیے جن میں صحافیوں اور پولیس حکام کے علاوہ پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس یا آئی ایس آئی کے افسران بھی شامل ہیں۔

سلیم شہزاد کے قتل میں ملوث افراد اور محرکات کے انکشاف کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پرویز شوکت نے کہا کہ یہ ایک ’اندھا‘ قتل تھا اور اس بارے میں پولیس تفتیش ابھی جاری ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر اس قتل کی تفتیش پولیس ہی کو کرنا تھی تو کیا کمیشن نے سلیم شہزاد کے قاتلوں کی نشاندہی نہیں کی، اس پر پرویز شوکت نے کہا کہ اس سوال کا جواب رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہی دیا جا سکتا ہے۔

صحافی سلیم شہزاد کو پچھلے سال تیس مئی کی شام اسلام آباد سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کی لاش صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین سے ملی تھی۔

بعض صحافتی تنظیموں نے اس قتل کی ذمہ داری پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی پر عائد کی تھی جن کے بارے میں صحافی سلیم شہزاد تحقیقاتی رپورٹس شائع کرتے رہتے تھے۔ تاہم آئی ایس آئی نے سختی سے ان الزامات کی تردید کی تھی۔